اپنے بہترینمحل وقوع کی وجہ سے کولکاتا کو "مشرقی بھارت کا داخلی دروازہ" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نقل و حمل کا اہم مرکز، وسیع مارکیٹ تقسیم مرکز، تعلیمی مرکز، صنعتی مرکز اور تجارتی مرکز ہے۔ کولکاتا کے قریبدریائے ہوگلی کے دونوں کناروں پر بھارت کے زیادہ ترپٹ سن کے کارخانے واقع ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں موٹر گاڑیاں تیار کرنے کی صنعت، کپاس-کپڑے کی صنعت، کاغذ کی صنعت، مختلف قسم کی انجینئری کی صنعت، جوتوں کی صنعت، ہوزری صنعت اور چائے فروخت کے مراکز وغیرہ بھی موجود ہیں۔
سرکاری طور پر1 جنوری،2001ء کو اس شہر کا نام تبدیل کر کے اس کے بنگالی تلفظ پرکولکاتا رکھا گیا۔[18] لفظ کولکاتا بنگالی اصطلاحکولیکاتا (بنگالی:কলিকাতা) تلفظ: [ˈkɔlikat̪a]) سے حاصل ہے جو انگریزوں کی آمد کے زمانہ میں اس جگہ پر موجود تین دیہاتوں میں سے ایک کا نام تھا۔ دیگر دو دیہاتشوتنتی (بنگالی:সুতানুটি) اورگوبندپور (بنگالی:গোবিন্দপুর) تھے۔[19]
اس کا سابق نام انگریزی میںکیلکٹا (Calcutta) تھا لیکنبنگلہ بولنے والے اسے ہمیشہکولکتہ یاكولكاتا ہی کہتے ہیں۔ہندی اوراردو میں اسےکلکتہ (कलकत्ता) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس کے نام کی اصل کے بارے میں کئی طرح کی کہانیاں مشہور ہیں۔ سب سے زیادہ مقبول کہانی کے مطابق اس شہر کے نام ہندوؤں کیدیویکالی کے نام سے ہے۔
تصور کیا جاتا ہے کہ اصطلاحکولیکاتا (بنگالی:কালীক্ষেত্র) (کالی کھیترو: Kalikkhetrô) کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کے معنیکالی کا کھیت کے ہیں۔ جبکہ ایک اور خیال کے مطابق یہ (سنسکرت: कालीक्षेत्र،نقل حرفی: کالکشیتر، Kalakshetra) سے ہو سکتا ہے جس کے معنیکالی کا علاقہ کے ہیں۔
متبادل طور پر نام بنگالی اصطلاحبنگالی:কিলকিলা) (کلکیلا: kilkila) سے اخذ ہو سکتا ہے جس کے معنیہموار علاقہ کے ہیں۔[20]
ایک اور نظریہ کے مطابق علاقے کچا چونا (quicklime) یا کولی چن [ˈkɔlitɕun] ({{Lang-bn|কলি চুন}) کی پیداوار اور ناریل کے ریشہ (coir or kata) تلفظ: [ˈkat̪a] (بنگالی:কাতা) کے لیے مشہور تھا اس لیے اسےکولی +کاتا کہا جانے لگا۔ تلفظ: [ˈkɔlikat̪a] (بنگالی:কলিকাতা)۔[20]
تاریخ
کولکاتا کے شمال میں 35 کلومیٹر (22 میل) کے فاصلے پر شمال میںچندرکیتوگڑھ کےآثار قدیمہ کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ یہ علاقہ دو ہزار سال قبل آباد تھا۔[21][22]مہا بھارت میں بھی بنگال کے کچھ راجاؤں کا نام ہے جو کورو فوج کی جانب سے جنگ میں شامل ہوئے تھے۔ اس شہر کے وجود کا ذکر تجارتی بندرگاہ کے طور پر چین کے قدیم مسافروں کے سفرناموں اور فارسی تاجروں کی دستاویزات میں ملتا ہے۔ شہنشاہاکبر کی محصول دستاویزات اورپندرہویں صدی کے ادب اور نظموں میں اس نام کا بار بار ذکر ملتا ہے۔
1698ء میںایسٹ انڈیا کمپنی نے ایک مقامی زمیندار خاندان ساورن رائے چودھری سے تین گاؤں (شوتنتی، کولیکاتا اور گوبندپور) حاصل کیے۔ اگلے سال کمپنی نے ان تین گاؤں کا ارتقا پریسیڈنسی سٹی کے طور پر شروع کر دیا۔1727ء میںمملکت برطانیہ عظمی کے بادشاہجارج دوم کے حکم کے مطابق یہاں ایک شہری عدالت قائم کی گئی۔ کولکاتا میونسپل کارپوریشن قائم کی گئی اور پہلے میئر کا انتخاب ہوا۔1756ء میں بنگال کےنوابسراج الدولہ نے كولكاتا پر حملہ کرکے اسے فتح کر لیا اس نے اس کا نامعلی نگر رکھا۔ لیکن سال بھر کے اندر ہی سراج الدولہ کی گرفت یہاں ڈھیلی پڑ گئی اور انگریزوں کا اس پر دوبارہ غلبہ ہو گیا۔1772ء میںوارن ہیسٹنگز نے اسے برطانوی راج کا ہندوستانی دار الحکومت بنا دیا۔ کچھ مورخ اس شہر کو ایک بڑے شہر کے طور پر1698ء میںفورٹ ولیم کے قیام سے جوڑتے ہیں۔1911ء تک کولکاتا ہندوستان میںبرطانوی راج کادارالحکومت رہا۔
1850ء کی دہائی تک کولکاتا دو علاقوں میں تقسیم ہو چکا تھا ایک گوروں کا شہرچورنگی اورڈلہوزی اسکوائر جس میں بنیادی طور پر برطانوی مقیم تھے جبکہ دوسرا کالوں کا شہر جس میں مقامی لوگ آباد تھے۔
برطانیہ نے1911ء میں دار الحکومتنئی دہلی منتقل کر دیا۔[23] تاہم کلکتہ (کولکاتا) کاتحریک آزادی ہند میں مرکزی کردار رہا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران1942ء اور1944ء میں شہر اور اس بندرگاہ پر جاپانیوں نے کئی بار بمباری کی۔[24][25] جنگ کے ساتھ فوجی، انتظامی اور قدرتی عوامل کے ایک مجموعہ کی وجہ1943ء کے بنگال قحط کے دوران لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔[26]1946ء میں ایکمسلم ریاست کی تشکیل کے مطالبات پر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں 4،000 سے زائد ہلاک ہوئے۔[27][28][29]تقسیم ہند کی وجہ سے مزید فسادات ہوئے۔ مسلمانوں ایک کثیر تعدادمشرقی پاکستان (موجودہبنگلہ دیش) ہجرت کر گئی اور اس طرحمشرقی بنگال سے ہندو کولکاتا آ گئے۔[30]
آج اس کی آبادی لگ بگ 1 کروڑ 40 لاکھ ہے۔ کولکتہ1980ء سے قبل کولکاتا بھارت کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر تھا، لیکن اس کے بعدممبئی نے اس کی جگہ لی۔
بابو ثقافت
برطانوی راج کے دوران جب کولکاتاہندوستان کادارالحکومت تھا، کولکاتا کولندن کے بعدسلطنت برطانیہ کا دوسرا سب سے بڑاشہر سمجھا جاتا تھا۔ اس شہر کی شناختمحلات کا شہر،مشرق کا موتی وغیرہ کے طور پر تھی۔اسی دوران بنگال اور خاص طور پر کولکاتا میں بابو ثقافت کا ارتقا ہوا جو برطانوی لبرل ازم اور بنگالی سماج میں بغاوت کا نتیجہ تھا۔ اس کی بنیادی وجہ بنگالی زمینداری رواج، ہندو مذہب کا متعصبانہ رویہ، سماجی، سیاسی اور اخلاقی اقدار میں تبدیلی تھی۔اسی کشمکش کے نتیجہ میں کہ انگریزوں کے جدید تعلیمی اداروں میں پڑھے کچھ لوگوں نے بنگال کے معاشرے میں اصلاح پسند بحث کو جنم دیا۔ بنیادی طور پربابو ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جو مغربی طریقے کی تعلیم پاکر بھارتی اقدار کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور خود کو زیادہ سے زیادہ مغربی انداز میں ڈھالنے کی کوشش کرتے تھے۔لیکن لاکھ کوششوں کے باوجود جب انگریزوں کے درمیان ان کا فرق برقرار رہا تو اس کے برعکس نتائج بھی آئے، اسی قسم کے کچھ لوگوں نے نئی بحثوں کا آغاز کیا جو بنگال کے "حیات نو" (پنرجہرن) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے تحت بنگال میں سماجی، سیاسی اور مذہبی اصلاحات ہوئیں۔ بنگلہ ادب نے نئی ااونچائیوں چھوا جس کا اثر دیگر ہندوستانی برادریوں نے بھی اپنایا۔
معیشت
ساؤتھ سٹی مال
کولکاتامشرقی اورشمال مشرقی بھارت کا بنیادی تجارتی اور مالیاتی مرکز ہے۔[31] یہاں کولکاتااسٹاک ایکسچینج بھی واقع ہے، جو بھارت کا دوسرا سب سے بڑا اسٹاک ایکسچینج ہے۔[32][33] یہاں اہم تجارتی اور فوجی بندرگاہ بھی ہے، اس کے علاوہ اس علاقے کا واحدبین الاقوامی ہوائی اڈا بھی یہیں ہے۔ ہندوستان کے اہم تجارتی شہر کولکاتا کو آزادی بعد کچھ ابتدائی سالوں میںکساد بازاری کا سامنا رہا، جس کی بنیادی وجہ سیاسی عدم استحکام اور تجارتی یونینوں کا بڑھنا تھا۔[34]1960ء کی دہائی سے1990ء کے دہائی کے وسط تک شہر کی معیشت مسلسل گرتی گئی جس کی وجہ یہاں پر بند یا منتقل ہوتے کارخانے اور کاروبار تھے۔[34]بھارتی اقتصادی پالیسی کی اصلاحات کے عمل سے1990ء کے دہائی میں شہر کے اقتصاد کو نئی سمت دی گئی، اس کے بعد پیداوار بھی بڑھی اور بے روزگار لوگوں کو کام بھی ملا۔[35]
شہر کیافرادی قوت میں سرکاری اور نجی کمپنیوں کے ملازم ایک بڑا حصہ ہیں۔ یہاں بڑی تعداد میں غیر ہنر مند اور نیم ہنر مند کارکنان موجود ہیں۔ ماہر کاریگرں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو شہر کی معیشت میںریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے۔ شہر کی اقتصادی حالت کی بہتری میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں یہاں سالانہ تقریباً 70 فیصد ترقی ہورہی ہے جو قومی اوسط دگنا ہے۔[36] حالیہ برسوں میں یہاں تعمیرات اور ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں بھی سرمایہ کار کافی دلچسبی لے رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے شہر میں کئی نئے منصوبوں کا آغاز ہوا ہے۔[37] کولکاتا میں کئی بڑی بھارتی کارپوریشنز کے صنعتی یونٹس قائم ہیں، جن کے مصنوعات پٹ سن سے لے کر الیکٹرانک اشیا تک ہیں۔کچھ قابل ذکر کمپنیاں جن کے صدر دفتر یہاں ہیں، آئی ٹی سی لمیٹڈ، باٹا، برلا کارپوریشن، کول انڈیا لمیٹڈ، دامودر ویلی کارپوریشن، یونائیٹڈ بینک آف انڈیا، یوکو بینک اورالہ آباد بینک وغیرہ اہم ہیں۔حال ہی میں حکومت ہند کی "مشرق دیکھو" (لک ایسٹ) پالیسی کی وجہ سےچین اورجنوب مشرقی ایشیائی ممالک سے تجارتی روابط بڑھانے کی پالیسیوں کی وجہ سے یہاں کئی ممالک نے بھارتی بازار میں قدم کیا ہے۔ اسی وجہ سے کولکاتا میںسرمایہ کاری کرنے سے یہاں کی اقتصادیات میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔[38][39]
کولکاتامشرقی بھارت میں22°34′22″N88°21′50″E / 22.57278°N 88.36389°E /22.57278; 88.36389 پر واقع ہے۔ شہر کے مشرق میںبنگلہ دیش اور بھارتی ریاستآسام، شمال میںسکم، مغرب میںبہار اورجھارکھنڈ جبکہ جنوب میںخلیج بنگال واقع ہے۔ شہر کی بلندی 1.5-9 میٹر (5-30 فٹ) ہے۔[40] شہردریائے ہوگلی کے کنارے شمال اور جنوب میں پھیلا ہوا ہے۔ شہر کا بہت سا حصہ ایک بڑی مرطوب زمینی علاقے تھا، جسے بھر کر شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کو بسایا گیا ہے۔[41]ماندہ مرطوب زمین جسے اب ایسٹ کلکتہ ویٹ لینڈز کہتے ہیں، کو رامسر کنونشن کے تحتبین الاقوامی اہمیت کی مرطوب زمین قرار دیا گیا ہے۔[42] دیگرسندھ و گنگ علاقوں کی طرح یہاں کی زمین بھی زرخیز ہے۔بھارتی معیاری بیورو کے مطابق ایک سے لے کر چار کے پیمانے پر شہر زلزلہ زون تین کے اندر مضمر ہے۔[43]
دریائے ہوگلی جسے روایتی طور پرگنگا بھی کہا جاتا ہےبھارت کی ریاستمغربی بنگال میںدریائے گنگا کا ایک معاوندریا ہے جو تقریباً 260 کلومیٹر (160 میل) طویل ہے۔[44] یہضلع مرشداباد کے مقام پر گنگا سے بطور نہر علاحدہ ہوتا ہے۔کولکاتہ شہر دریائے ہوگلی کے کنارے بسا ہے۔[45] کولکاتا کے مقام پر اس پر دو پل واقع ہیں جن میں سے ایک مشہور زمانہہاوڑہ پل اور دوسراودیاساگر پل پل ہے۔
آب و ہوا
کولکاتا کیآب و ہوا استوائی نم-خشک ہے۔ یہ کوپین موسمیاتی درجہ بندی کے مطابق (Aw) کے زمرے میں آتی ہے۔اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ کے مطابق یہ تیز ہواوں اور طوفان زون میں ہے اور اسے "بہت زیادہ نقصان کا خطرہ" لاحق ہے۔[43]
درجہ حرارت
سالانہ اوسط درجہ حرارت 26.8 ° س (80 ° ف)؛ ماہانہ اوسط درجہ حرارت 1 9 ° س سے 30 ° س (67 ° ف. سے 86 ° ف) رہتا ہے۔[46] موسم گرما گرم اور مرطوب رہتا ہے، جس سے کمدرجہ حرارت 30 ڈگری کی دہائی میں رہتا ہے اور خشک عرصے میں یہ 40 ° س (104 ° ف) کو بھی پار کر جاتا ہے۔ ایسا عام طور پر مئی اور جون میں ہوتا ہے۔[46]موسم سرما ڈھائی ماہ تک ہی رہتا ہے جس میں کم از کم درجہ حرارت 12 ° س سے 15 ° س (54 ° ف. - 57 ° ف) تک جاتا ہے۔ ایسا دسمبر سے فروری کے درمیان ہوتا ہے۔[46]اکثر گرمیاں کے شروع میں دھول والی آندھیاں آتی ہیں جن کے ساتھ ہی تیز بارشیں ہوتی ہیں۔ یہ شہر کو شدید گرمی سے راحت دلاتی ہیں۔ اس بارشوں کو موسم کو کال بیساکھی (কালবৈশাখী) کہا جاتا ہے۔[47]
برسات
کولکاتا میں برسات
خلیج بنگال کی جنوب مغربی شاخ کےمون سون کی بارشیں کولکاتا میں جون اور ستمبر کے درمیان خوب برستی ہیں، جو یہاں کی سالانہ بارش 1،800ملی میٹر کا زیادہ تر حصہ ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ ماہانہ بارش جولائی اور اگست میں ہوتی ہے۔شہر میں فی سال دھوپ کے 2،528 گھنٹے نکلتی ہے جس میں مارچ کا مہینا سب سے نمایاں ہوتا ہے۔[48] کولکاتا کو کئی سمندری طوفانوں کا سامنا رہا ہے؛ 1737 اور 1864 میں آنے والے ان طوفانوں سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔[49][50]
آلودگی کولکاتا میں ایک بڑی تشویش کا سبب ہے۔ 2008 کے مطابق سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کا سالانہ ار تکاز بھارت کے قومی ہوا معیار کے اندر تھی۔لیکن قابل تنفس معلق ذرات کی سطح اعلیٰ تھی اور مسلسل پانچ سال سے بڑھتا ہوا رجحاناسموگ اور کہر کا باعث بنا ہے۔[53][54] شہر میں شدیدفضائی آلودگی سانس کی بیماریوں اورپھیپھڑوں کے کینسر میں اضافہ کی وجہ ہے۔[55]
بنگالی ہندو کولکاتا کی آبادی کی اکثریت کی تشکیل دیتے ہیں جبکہ مارواڑی، بہاری اورمسلمان بڑی اقلیتیں ہیں۔[60] کولکاتا کی چھوٹی برادریوں میں چینی، تامل، نیپالی، اوڈیشائی، تیلگو، آسامی،گجراتی،اینگلو انڈین، آرمینیائی،یونانی،تبتی، مہاراشٹری، کونکنی،ملیالی،پنجابی اورپارسی شامل ہیں۔[61] آرمینیائی، یونانیوں، یہودیوں اور دیگر غیر ملکی نژاد گروہوں کی تعداد میںبیسویں صدیکے دوران کمی آئی ہے۔[62]کولکاتا کی یہودی آبادیدوسری جنگ عظیم کے دوران 5،000 تھی لیکنآزادی ہند اوراسرائیل کی ریاست کے قیام کے بعد یہ کم ہو گئی۔[63]2013ء کے مطابق شہر میں صرف 25 یہودی آباد تھے۔[64] بھارت کی واحد چائنا ٹاؤن مشرقی کولکاتا میں ہے۔ ایک وقت میں یہاں 20،000 نسلی چینی آباد تھے[62] تاہم2009ء میں یہ کم ہو کر 2،000 رہ گئے۔[62]چینی برادری روایتی طور پر مقامی دباغت کی صنعت اور چینی ریستورانوں میں کام کرتی تھی۔[62][65]
حکومت اور عوامی خدمات
شہری انتظامیہ
کولکاتا کئی سرکاری ایجنسیوں کے زیر انتظام ہے۔ کولکاتا میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) شہر کی 15 بروز جو 141 وارڈوں میں منقسم ہیں کا انتظام سنبھالتی ہے۔[66]ہر وارڈ سے ایم سی کے لیے ایک کونسلر منتخب ہوتا ہے۔ ہر برو کے کونسلروں کی ایک کمیٹی ہوتی ہے جو وارڈوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں۔ برو کمیٹیوں کے ذریعے کارپوریشن (بلدیہ) شہری منصوبہ بندی، سڑکوں کی دیکھ بھال، حکومتی اسکولوں، ہسپتالوں اور میونسپل منڈیوں کا انتظام سنبھالتی ہے۔[67] کے ایم سی کے فرائض میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور سیوریج، صفائی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، گلی، نظم روشنی اور عمارت ضابطہ بھی شامل ہیں۔ ہیں۔[67]
کولکاتا کی عوامی ٹریفک کے لیے بنیادی طور بس، آٹوركشا، سائیکل ركشا،ٹرام اور میٹرو ریل سروس زیر استعمال ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ بنیادی طور پر بسوں کو سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ یہاں سرکاری اور نجی کمپنیوں کی بسیں زیر استعمال ہیں۔ بھارت میں کولکاتا واحد شہر ہے، جہاں ٹرام سروس دستیاب ہے۔مانسون کے وقت بھاری بارشوں کی وجہ سے کئی بار مقامی ٹریفک میں خلل پڑتا ہے۔ کولکاتا میں تقریباً تمام پیلی ٹیکسیاں ایمبیسیڈر ہی ہیں۔ کولکتہ کے علاوہ دیگر شہروں میں زیادہ تر ٹاٹا انڈکا یا فیئٹ ہی ٹیکسی کے طور پر چلتی ہیں۔ دیگر شہروں کی نسبت یہاں ذاتی گاڑی کافی کم ہیں۔ تاہم حال میں شہر میں نجی گاڑیوں کی رجسٹریشن میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔2002ء کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سات سالوں میں گاڑیوں کی تعداد میں 44 فیصد اجافہ نظر آتا ہے۔ شہر کے آبادی کی کثافت کے تناسب سے سڑکیں محض 6 فیصد ہیں، جبکہ دہلی میں یہ 23 فیصد اور ممبئی میں 17 فیصد ہیں۔ یہی یہاں کے ٹریفک جام کی بنیادی وجہ ہے۔[69] کولکاتا میٹرو اور بہت سے نئے فلائی اوورز اور نئی سڑکوں کی تعمیر نے شہر کو کافی راحت دی ہے۔
نیتا جی سبھاش چندر بوس انٹرنیشنل ائیرپورٹ یانیتا جی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈا کولکاتا،مغربی بنگال،بھارت میں واقع ایکبین الاقوامی ہوائی اڈا ہے۔ یہ شہر کے مرکز سے تقریباً 17 کلومیٹر (11 میل) کے فاصلے پرڈم ڈم میں واقع ہے۔ اس کا نام پہلےڈم ڈم ایئر پورٹ تھا جسے بعد میںتحریک آزادی ہند کے ایک رہنماسبھاش چندر بوس کے نام پر تبدیل کر دیا گیا۔
کولکاتابھارتی ریلوے کے سترہ علاقائی ڈویژنوں میں سے تین ریلوے زون کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر کام کرتا ہے۔[70] کولکاتابنگلہ دیش کےدارالحکومتڈھاکہ کے ساتھ ریل اور سڑک کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔[71][72][73] کولکاتا میں ریلوے کے مندرجہ ذیل اسٹیشن ہیں۔
کولکاتا میٹرو کولکاتا شہر میں ایک میٹرو ریل نظام ہے۔ 300 میٹرو خدمات روزانہ 650،000 سے زائد مسافروں کو خدمات فراہم کریں ہیں۔ یہبھارت کا دوسرا مصروف ترین میٹرو نظام ہے۔[74]
کولکاتا ٹرامبھارت کے شہر کولکاتا میں ایکٹرام نظام ہے جوکلکتہ ٹرام ویز کمپنی (Calcutta Tramways Company) کے زیر انتظام ہے۔ یہ فی الحال بھارت میں واحد فعال ٹرام نیٹ ورک ہے،[75] اورایشیا میں سب سے قدیم فعال برقی ٹرام ہے جو1902ء کے بعد سے چل رہی ہے۔[76]
کولکاتا بندرگاہبھارت کےشہر کولکاتا میں ایک دریاَئیبندرگاہ ہے جوسمندر سے تقریباً 203 کلومیٹر (126 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔[77] یہ بھارت کی سب سے قدیم عمل کاری بندرگاہ ہے جسےبرطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے تعمیر کیا تھا۔
دریائی کشتی
رکشہ
سائیکل رکشہ
بس
نگہداشت صحت
کلکتہ میڈیکل کالج
2011ء کے مطابق کولکاتا میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام 48 سرکاری اسپتالوں پر مشتمل ہے جن میں زیادہ تر صحت اور خاندان فلاحی شعبہ، مغربی بنگال کی حکومت کے تحت اور 366 نجی طبی اداروں کے ہیں۔[78] یہ مجموعی طور پر 27،687 ہسپتال بستر فراہم کرتے ہیں۔[78]شہر میں ہر 10،000 افراد کے لیے، 61.7 ہسپتال بستر ہیں[79] جو قومی اوسط 9 ہسپتال بستر فی 10،000 افراد سے کہیں بہتر ہے۔[80]
کولکاتا میٹروپولیٹن علاقہ میں دس میڈیکل اور ڈینٹل کالج موجود ہیں جو ریاست میں تیسرے درجے ریفرل ہسپتالوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔[81][82] کلکتہ میڈیکل کالج1835ء میں قائم کیا گیا جوایشیا میں پہلا جدید طب سکھانے والا ادارہ تھا۔[83] تاہم یہ سہولیات شہر کی صحت کی دیکھ بھال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔[84][85][86]
2005ء نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق کولکاتا کے گھرانوں کے کا صرف ایک چھوٹے تناسب کسی بھی صحت کی منصوبہ بندی یا صحت کی انشورنس کے تحت شامل تھا۔[87]:41کولکاتا میں شرح پیدائش 1.4 تھی جو سروے میں شامل آٹھ شہروں میں سب سے کم تھی۔[87]:45
کولکاتا کے تعلیمی اارے ریاستی حکومتی اور نجی تنظیموں کے زیر انتظام ہیں جن میں سے کئی مذہبی ہیں۔بنگالی اورانگریزی تدریس کی بنیادی زبانیں ہیں،اردو اورہندی بھی زیر استعمال ہیں خاص طور پر مرکزی کولکاتا میں۔[88][89]
کولکاتا میںیونیورسٹی آف کلکتہ سمیت کئی نامور تعلیمی ادارے اور کالج ہیں یہاں چار میڈیکل کالج بھی ہیں۔ اسی کی دہائی کے بعد کولکاتا کی تعلیمی حیثیت میں کمی ہوئی لیکن کولکاتا اب بھی تعلیمی ماحول کے لیے جانا جاتا ہے۔کلکتہ یونیورسٹی، جادو پور یونیورسٹی، رویندر بھارتی یونیورسٹی، مغربی بنگال قومی عدالتی سائنس یونیورسٹی، نیتا جی سبھاش آزاد یونیورسٹی، بنگال انجینئری اور سائنس یونیورسٹی، مغربی بنگال صحت سائنس یونیورسٹی، مغربی بنگال ٹیکنیکل یونیورسٹی یونیورسٹی آف کلکتہ کے مختلف حصوں میں واقع ہیں۔
کولکاتا میں کئی اہم تحقیقی ادارے بھی موجود ہیں جیسےانڈین ایسوسی ایشن برائے سائنس کی کاشت (Indian Association for the Cultivation of Science)،انڈین انسٹی ٹیوٹ برائے کیمیائی حیاتیات (Indian Institute of Chemical Biology)،انڈین انسٹی ٹیوٹ برائے سائنس کی تعلیم اور تحقیق (Indian Institute of Science Education and Research)،بوس انسٹی ٹیوٹ (Bose Institute)،ساہا انسٹی ٹیوٹ برائے جوہری طبیعیات (Saha Institute of Nuclear Physics)،آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ برائے صحت و صفائی اور عوامی صحت (All India Institute of Hygiene and Public Health)،مرکزی شیشہ اور خزافی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (Central Glass and Ceramic Research Institute)،ایس این بوس قومی مرکز برائے بنیادی سائنسز (S.N. Bose National Centre for Basic Sciences)،انڈین انسٹی ٹیوٹ برائے سوشل ویلفیئر اور بزنس مینجمنٹ (Indian Institute of Social Welfare and Business Management)،نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے دواسازی کی تعلیم اور تحقیق (National Institute of Pharmaceutical Education and Research)،متغیر توانائی سائکلوٹران سینٹر (Variable Energy Cyclotron Centre) اورانڈین سینٹر برائے خلائی طبیعیات (Indian Centre for Space Physics).
ثقافت
بھارتی عجائب گھربھارتی قومی کتب خانہرقص
کولکاتا کو طویل عرصے سے اس کی ادبی، انقلابی اور فنکارانہ ورثے کے لیے جانا جاتا ہے۔ ہندوستان کے سابق دار الحکومت رہنے کی وجہ سے یہ جدید ہندوستان کی ادبی اور فنکارانہ سوچ کا مرکز بنا۔ كولكاتا کے رہنے والوں میں بنیادی سطح پر ہمیشہ ہی فن اور ادب کے لیے خاص مقام رہا ہے۔ ہمیشہ نئے باصلاحیت افراد کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ان وجوہات کی وجہ سے کولکاتا کو بھارت کا ثقافتی دار الحکومت بھی کہا جاتا ہے جو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی۔
کولکاتا کے خاص حصے جنھیںپارا کہا جاتا ہے، جس کے معنی قریبی علاقے ہیں۔ ہر پارا ایک کمیونٹی سینٹر کھیل کے مقامت وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ لوگوں میں یہاں فرصت کے وقت اڈا (یعنی آرام سے باتیں کرنا) میں اجلاس، بحثیں وغیرہ میں کبھی کبھار مسائل پر بات کرنے کی عادت ہے۔ یہ عادت ایک آزاد فکری گفتگو کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔[90]
کولکاتا میں بہت سی عمارتیں گوتھک، بروق، رومن اور ہند-اسلامیطرز تعمیر کی ہیں۔ برطانوی دور کی کئی عمارتیں اچھی طرح سے محفوظ ہیں اور اب انھیں ورثہ قرار دیا جا چکا ہے جبکہ بہت سی عمارتیں تباہی کے دہانے پر ہیں۔1814ء میں بنا بھارتی عجائب گھر کا شمار ایشیا کے قدیم عجائب گھروں میں ہوتا ہے۔ یہاں ہندوستانی تاریخ، قدرتی تاریخ اور ہندوستانی فنون کا حیرت انگیز مجموعہ موجود ہے۔[91]وکٹوریہ میموریل کولکاتا کی بلا شبہ سب سے اہم یادگار ہے۔ یہاں کے عجائب گھر میں شہر کی تاریخ موجود ہے۔ یہاں کا بھارتی قومی کتب خانہبھارت کا ایک اہم اور بڑاکتب خانہ ہے۔ فائن آرٹس اکیڈمی اور بہت سے دوسرے فن کے ادارے باقاعدہ فن پر مبنی نمائش منعقد کرتے رہتے ہیں۔
شہر میں تھیٹر اور اجتماعی تھیٹر آج بھی زندہ ہے۔ یہاں ہندی فلمیں اتنی ہی مقبول ہیں جتنی کہ بنگلہ فلمیں۔ یہاں کی فلمی صنعت کوٹالووڈ نام دیا گیا ہے۔ یہاں کی فلمی صنعت ٹولی گنج میں واقع ہے۔ طویل عرصے موجود یہاں کی فلمی صنعت نے کئی مشہور فلم ڈائریکٹر جیسے ستیہ جیت رائے، مرنال سین، تپن سنہا بھارتی فلمی صنعت کو دیے ہیں۔
کولکاتا کے پکوان کے بنیادی اجزا چاول اور ماچھیر جھول جبکہ میٹھے میںرس گلہ اور مشٹی ڈوئی بہت مشہور ہیں۔ بنگالی لوگوں کی بنیادی غذا میں مچھلی پسندیدہ ترین ہے۔[92][93]
بنگالی خواتین عام طور پرساڑی پہنتی ہیں تاہم کم عمر خواتین میںشلوار قمیض اور مغربی لباس بھی مقبول ہو رہا ہے۔ گھریلو طور پر ساڑی پہننے کا ایک مخصوص انداز ہوتا ہے جو خاص بنگالی شناخت ہے۔ ساڑیوں میں یہاں کی بنگالی سوتی اور ریشمی ساڑیاں مشہور ہیں۔ مردوں میں اکثر مغربی پنٹ شرٹ ہی چلتے ہیں، مگر تہواروں اور خاص موقوں پر روایتی سوتی اور ریشمی کرتوں کو دھوتی کے ساتھ پہنا جاتا ہے۔ یہاں مردوں کا دھوتی کا سرے ہاتھ میں پکڑ کر چلنے کا رواج رہا ہے، جو ایک خاص بنگالی پہچان دیتا ہے۔ دھوتی عام طور پر سفید رنگ کی ہی ہوتی ہے۔
درگا پوجا کولکاتا کا سب سے زیادہ نمایاں اور چکاچوند کرنے والا جشن ہے۔[94][95][96] یہ تہوار اکثر اکتوبر کے مہینے میں آتا ہے تاہم ہر چوتھے سال ستمبر میں بھی آ سکتا ہے۔ دیگر قابل ذکر تہواروں میں جگددھاتری پوجا، پولا بیاكھ، سرسوتی پوجا، رتھ یاترا، پوش پربو،دیوالی،ہولی،کرشن جنم اشٹمی،مہا شواراتری،گنیش چترتھی،مکر سنکرانتیکرسمس اورعید،محرم وغیرہ اہم ہیں۔ ثقافتی تہواروں میں کولکاتا کتاب میلہ، کولکتہ فلم اتسو، ڈوور لین موسیقی تہوار اور نیشنل تھیٹر فیسٹیول آتے ہیں۔ شہر میں ہندوستانیکلاسیکی موسیقی اور بنگالی لوک گیت موسیقی کو بھی سراہا جاتا ہے۔
ذرائع ابلاغ
اخبار
آکاشوانی بھون،آل انڈیا ریڈیو کا صدر دفتر، کولکاتا
ہندوستان کا پہلااخبار، بنگال گزٹ1780ء میں کولکاتا سے شائع ہونا شروع ہوا۔[97] بہت سے بنگلہ اخبار یہاں شائع ہوتے ہیں، جن میں آنند بازار پتریکا، آج کل، برتمان، سگنباد پرتیدن، گنیشکتی اور دیانک سٹیٹمن اہم ہیں۔[98] دی سٹیٹسمین اور دی ٹیلی گراف کولکاتا سے شائع ہونے عالے دو بڑےانگریزیاخبارات ہیں۔ کولکاتا میں شائع اور فروخت ہونے والے دیگر مقبول انگریزی اخبارات میں ٹائمز آف آنڈیا، ہندوستان ٹائمز، دی ہندو، انڈین ایکسپریس اور ایشین ایج شامل ہیں۔[98]مشرقی بھارت کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سے کولکاتا میں اکنامک ٹائمز، فنانشل ایکسپریس، بزنس لائن اور بزنس سٹینڈرڈ سمیت کئی اعلی مالی روزنامے گردش میں ہیں۔[98][99] مقامی زبانوں کے اخبارات جیسےہندی،اردو،گجراتی،اڑیہ،پنجابی اور چینی مقامی اقلیتوں میں پڑھے جاتے ہیں۔[62][98]
آکاش وانی قومی سرکاری ریڈیو براڈکاسٹر شہر میں کئی اے ایم ریڈیو اسٹیشنوں سے نشریات کرتا ہے۔[100] کولکاتا میں 12 مقامی ریڈیو اسٹیشن ایف ایم پر نشریات کرتے ہیں۔[101]
بھارت کا سرکاری ٹیلی ویژن براڈکاسٹر،دوردرشن دو مفت چینلز پر نشریات کرتا ہے۔[102] جبکہ بنگالی، ہندی، انگریزی اور دیگر علاقائیٹیلی ویژن چینلز کیبل، براہ راست مصنوعی سیارہ نشریات یا انٹرنیٹ کے ذریعے قابل رسائی ہیں۔[103][104][105]
مواصلات
کولکتہ میں سرکاری بی ایس این ایل اور نجی مواصلاتی کمپنیاں جیسے ووڈافون، ایئر ٹیل، ریلائنس کمیونی کیشنز، ٹاٹا انڈیکوم وغیرہ ٹیلی فون اور موبائل خدمات فراہم کرتے ہیں۔ شہر میںجی ایس ایم اورسی ڈی ایم اے دونوں قسم کی خدمات دستیاب ہیں۔ یہاں بی ایس این ایل، ٹاٹا کمیونی کیشنز، ایئر ٹیل اور ریلائنس کمیونی کیشنز کی طرف سے براڈبینڈ سروس بھی دستیاب ہے۔ ان کے علاوہ سفی اور الائنس بھی یہ سروس فراہم کرتے ہیں۔
کولکاتا میں سب سے زیادہ مقبول کھیلفٹ بال اورکرکٹ ہیں۔ بھارت کے بیشتر حصوں کے برعکس یہاں کے رہائشیوں میں فٹ بال کے لیے اہم جذبہ ہے۔[106] شہر بہترین قومی فٹ بال کلب جیسے موہن باگان اے سی، مشرقی بنگال ایف سی، پریاگ یونائٹڈ ایس سی اور محمڈن اسپورٹنگ کلب کا گھر ہے۔[107][108] کلکتہ فٹ بال لیگ جو1898ء میں شروع ہوئیایشیا میں سب سے پرانی فٹ بال لیگ ہے۔[109]
بھارت کے باقی حصوں کی طرحکرکٹ کولکاتا میں مقبول ہے اور شہر بھر کے میدانوں اور گلیوں میں کھیلا جاتا ہے۔[110][111]انڈین پریمیئر لیگ میں کولکاتا کی ایک فرنچائز ہے جوکولکاتا نائٹ رائیڈرز ہے۔ بنگال کرکٹ ایسوسی ایشن جومغربی بنگال میں کرکٹ کے انتظامی امور سنبھالتی ہے کولکاتا ہی میں واقع ہے۔شہر میں بین محلہ یا بین کلب بنیادوں پر کھیلوں کے ٹورنامنٹ خاص کرکرکٹ،فٹ بال،بیڈمنٹن اور کیرم منعقد کیے جاتے ہیں۔[112]میدان شہر میں ایک وسیع میدان ہے جو سب سے بڑا پارک ہے۔ یہاں کئی معمولی فٹ بال اور کرکٹ کلبوں اور کوچنگ اداروے موجود ہیں۔[113]
میدان اورفورٹ ولیم،دریائے ہوگلی کے قریب بھارت کے سب سے بڑے پارکوں میں سے ایک ہے۔ یہ 3 مربع کلومیٹر کے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ میدان کے مغرب میں فورٹ ولیم ہے۔ چونکہ فورٹ ولیم اب بھارتی فوج کے زیر استعمال ہے اس لیے یہاں داخل ہونے کے لیے خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے۔
ایڈن گارڈنز کے ایک چھوٹے تالاب میں برما کا پگوڈا تعمیر کیا گیا ہے، جو اس باغ میں خاص توجہ کا مرکز ہے۔ یہ مقام مقامی لوگوں میں بہت مقبول ہے۔
وکٹوریہ میموریل1906ء سے1921ء کے درمیان تعمیر کیا گیا یہبرطانویملکہ وکٹوریہ کی ایک یادگار ہے۔ یادگار میں ایک شاندارعجائب گھر بھی ہے جہاں ملکہ کے پیانو اور سٹڈی ڈیسک سمیت 3000 سے زائد چیزیں رکھی گئی ہیں۔ یہ روزانہ صبح 10:00 بجے سے شام 4:30 بجے تک کھلتا ہے، پیر کو یہ بند رہتا ہے۔
سینٹ پال کیتھیڈرل تعمیرات کی ایک منفرد مثال ہے، اس کی رنگین شیشے کی کھڑکیاں اور گوتھک طرز تعمیر اس کا خاصہ ہیں۔ یہ روزانہ صبح 9:00 بجے سے دوپہر تک اور شام 3:00 بجے سے 6:00 بجے تک کھلتا ہے۔
ناخدا مسجد سرخ پتھر سے بنی ہوئی ہے۔ یہ ایک بڑیمسجد ہے جس کی تعمیر1926ء میں ہوئی تھی۔ اس میں 10،000 افراد کی گنجائش ہے۔
ماربل پیلس ایم جی روڈ پر واقع کو اس محل کی خوبصورتی قابل دید ہے۔1800ء میں یہ محل ایک امیر بنگالی زمیندار کی رہائش تھا۔ یہاں کچھ خوبصورت مجسمے اور پینٹنگ ہیں۔ خوبصورت فانوس، یورپین اینٹیک، وینیٹين گلاس، پرانے پیانو اور چین کے بنے نیلے گلدان آپ کو اس وقت کے امیروں کی طرز زندگی کی جھلک دکھاتے ہیں۔
پارس ناتھ جین مندر1867ء میں بنا۔ یہ مندر وینیٹين گلاس، پیرس کے فانوسوں، سونے کا ملممع چڑھا گنبد، رنگین شیشوں والی کھڑکیاں اور شیشے لگے كھبوں سے سجا ہے۔ یہ روزانہ صبح 6:00 بجے سے دوپہر تک اور شام 3:00 بجے سے 7:00 بجے تک کھلتا ہے۔
بیلور خانقاہ رام کرشن مشن کا ہیڈ کوارٹر ہے، اس کی تعمیر1899ء میں سوامی وویکانند نے کی تھی، جو رام کرشن کے شاگرد تھے۔ یہ اکتوبر سے مارچ کے دوران صبح 6:30 بجے سے 11:30 بجے تک اور شام 3:30 بجے سے 6:00 بجے تک اور اپریل سے ستمبر تک یہ صبح 6:30 بجے سے 11:30 بجے تک اور شام 4:00 بجے سے 7:00 بجے تک کھلتا ہے۔
دكشن ایشور کالی مندردریائے ہوگلی کے مشرقی ساحل پر واقع یہ ماں کالی کا مندر ہے جہاں شری رام کرشن پرہمنس ایک پادری تھے یہاں انھیں تمام مذاہب میں اتحاد لانے کی معرفت ہوئی۔ کالی مندر سڈر سٹریٹ سے 6 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ یہ صبح 3:00 بجے سے رات 8:00 بجے تک کھلتا ہے۔
مدر ٹریسا ہومز سیکڑوں بے گھروں غریبوں کا گھر ہے جو خود کو خدمت خلق کے لیے وقف کر دینے والی مسیحی راہبہمدر ٹریسا کی کاوش ہے۔
بوٹینکل گارڈنز کئی ایکڑ میں پھیلا ایک سرسبز، پودوں کی نایاب قسموں، خوبصورت کھلے پھولوں، پرسکون ماحول فراہم کرتا ہے۔ یہاں قدرت کے ساتھ شام گزارنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ دریا کے مغربی جانب واقع اس باغ میں دنیا کا دوسرا سب سے بڑا برگد کا درخت ہے، جو 10،000مربع میٹر میں پھیلا ہوا ہے، اس کی تقریباً 420 شاخیں ہیں۔
↑"Archived copy"۔ 2013-12-03 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2015-04-25{{حوالہ ویب}}:نامعلوم پیرامیٹر|deadurl= رد کیا گیا (معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: آرکائیو کا عنوان (link)
↑Kenny Easwaran۔"The politics of name changes in India"۔ Open Computing Facility, University of California at Berkeley۔ 2011-07-19 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2012-01-26
↑Sanjoy Chakravorty (2000)۔ "From colonial city to global city? The far-from-complete spatial transformation of Calcutta"۔ در Peter Marcuse؛ Ronald van Kempen (مدیران)۔Globalizing cities: a new spatial order?۔ Oxford, UK: Blackwell Publishing۔ ص 56–77۔ISBN:0-631-21290-6
↑A Sen (1973)۔ "Poverty and famines"۔ Oxford, UK: Oxford University Press: 52–85۔ISBN:0-19-828463-2{{حوالہ رسالہ}}:الاستشهاد بدورية محكمة يطلب|دورية محكمة= (معاونت)
↑Suranjan Das (2000)۔ "The 1992 Calcutta Riot in Historical Continuum: A Relapse into 'Communal Fury'?"۔Modern Asian Studies۔ Cambridge University Press۔ ج 34 شمارہ 2: 281–306۔DOI:10.1017/S0026749X0000336X۔ISSN:0026-749X۔JSTOR:313064{{حوالہ رسالہ}}:پیرامیٹر|حوالہ=harv درست نہیں (معاونت)
↑H. S. Suhrawardy (1987)۔ "Direct action day"۔ در M. H. R. Talukdar (مدیر)۔Memoirs of Huseyn Shaheed Suhrawardy۔ Dhaka, Bangladesh: The University Press۔ ص 55–56۔ISBN:984-05-1087-8{{حوالہ کتاب}}:|chapterurl= میں بیرونی روابط (معاونت)،نامعلوم پیرامیٹر|chapterurl= مجوزہ استعمال رد|مسار الفصل= (معاونت)،پیرامیٹر|آرکائیو یوآرایل=|یوآرایل= درکار (معاونت)، وپیرامیٹر|تاریخ رسائی|یوآرایل= درکار (معاونت)
↑Shashi Sahdev؛ Nilima Verma، مدیران (2008)۔"Urban Land price Scenario- Kolkata − 2008"۔Kolkata—an outline۔ Industry and Economic Planning۔ Town and Country Planning Organisation, Ministry of Urban Development, Government of India۔ 2012-04-26 کواصل(DOC) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2017-05-23{{حوالہ کتاب}}:پیرامیٹر|حوالہ=harv درست نہیں (معاونت)
^اب"Kolkata"۔Microsoft Encarta Online Encyclopedia۔ 2007۔ 2009-10-28 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2007-10-13
↑Chakravorty S (2000). "From Colonial City to Global City? The Far-From-Complete Spatial Transformation of Calcutta" in(Marcuse & van Kempen 2000, pp. 56–77)
^اب"Hazard profiles of Indian districts"(PDF)۔National Capacity Building Project in Disaster Management۔ UNDP۔ 2006-05-19 کواصل(PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2006-08-23
↑Central Pollution Control Board۔"Annual report 2008–2009"۔ Ministry of Environment and Forests, Government of India۔ ص 40۔ 2019-01-07 کواصل(PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2012-02-02
↑"Population by Religious Community"۔ Census of India۔ 2019-01-07 کو اصل سےآرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2016-05-10Click on arrow adjacent to state West Bengal so that a Microsoft excel document is downloaded with district wise population of different religious groups. Scroll down to Kolkata district in the document at row no.1629.
↑"Calcuttan"۔ dictionary.com۔ 2012-03-03 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2011-12-10{{حوالہ ویب}}:نامعلوم پیرامیٹر|deadurl= رد کیا گیا (معاونت)
↑The population (4,486,679) and hospital beds (27,687) have been used to derive this rate.
↑"Hospital beds"۔ World Health Organistation۔ 2012-07-09 کواصل(XLS) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2012-01-31{{حوالہ ویب}}:نامعلوم پیرامیٹر|deadurl= رد کیا گیا (معاونت)
↑Prithvijit Mitra (9 اپریل 2011)۔"On hospital floor for 12 days"۔Times of India۔ New Delhi۔ 2012-07-10 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2012-01-31{{حوالہ خبر}}:نامعلوم پیرامیٹر|dead-url= رد کیا گیا (معاونت)
^ابKamla Gupta؛ Fred Arnold؛ H. Lhungdim (2009)۔"Health and living conditions in eight Indian cities"(PDF)۔National Family Health Survey (NFHS-3), India, 2005–06۔ Mumbai: International Institute for Population Sciences; Calverton, Maryland, US۔ 2012-12-12 کواصل(PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2012-02-01
↑"Annual Report 2007––2008"۔ Department of School Education, Government of West Bengal۔ ص 69۔ 2019-01-07 کواصل(PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2011-12-10
↑"List of schools in Kolkata"۔ West Bengal Board of Secondary Education۔ 2019-01-07 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2011-12-10
↑"Radio stations"۔ All India Radio۔ 2011-12-05 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2011-12-08{{حوالہ ویب}}:نامعلوم پیرامیٹر|deadurl= رد کیا گیا (معاونت)
↑"Direct-to-home comes home"۔Times of India۔ New Delhi۔ TNN۔ 9 اکتوبر 2003۔ 2012-07-01 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2012-01-24{{حوالہ خبر}}:نامعلوم پیرامیٹر|dead-url= رد کیا گیا (معاونت)
↑"Football in Bengal"۔ Indian Football Association۔ 2011-12-03 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2011-12-07{{حوالہ ویب}}:نامعلوم پیرامیٹر|dead-url= رد کیا گیا (معاونت)
↑"Kolkata culture: Para"۔ Department of Tourism, Government of West Bengal۔ 2011-12-21 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2011-12-09{{حوالہ ویب}}:نامعلوم پیرامیٹر|deadurl= رد کیا گیا (معاونت)
↑Ashwin Desai (2000)۔Blacks in whites: a century of cricket struggles in KwaZulu-Natal۔ Pietermaritzburg, South Africa: University of Natal Press۔ ص 38۔ISBN:978-1-86914-025-0
↑"History of polo"۔ Hurlingham Polo Association۔ 2006-04-27 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2007-08-30{{حوالہ ویب}}:نامعلوم پیرامیٹر|deadurl= رد کیا گیا (معاونت)
کتابیات
S Chaudhuri (1990)۔Calcutta: the living City۔ Kolkata: Oxford University Press۔ ج I and II۔ISBN:0-19-562585-4
Jayabrato Chatterjee؛ Rupinder Khullar (1 جنوری 2004)۔Kolkata: the dream city۔ the University of Michigan: UBS Publishers' Distributors۔ ص 93۔ISBN:978-81-7476-471-3
Ishita Dey؛ Ranabir Samaddar (2016)۔Beyond Kolkata: Rajarhat and the Dystopia of Urban Imagination۔ Routledge۔ ص 304۔ISBN:978-1-134-93137-8
Zakir Husain؛ Mousumi Dutta (2013)۔Women in Kolkata’s IT Sector: Satisficing Between Work and Household۔ Springer Science & Business Media۔ ص 133۔ISBN:9788132215936
Pablo Shiladitya Bose (2015)۔Urban Development in India: Global Indians in the Remaking of Kolkata۔ Routledge۔ ص 178۔ISBN:978-1-317-59673-8
Shukla Sanyal (2014)۔Revolutionary Pamphlets, Propaganda and Political Culture in Colonial Bengal۔ Cambridge University Press۔ ص 219۔ISBN:978-1-107-06546-8
Henry Elmsley Busteed (1888)۔Echoes from Old Calcutta: Being Chiefly Reminiscences of the Days of Warren Hastings, Francis, and Impey۔ Asian Educational Services۔ ص 359۔ISBN:9788120612952
E. P. Richards (2014)۔The Condition, Improvement and Town Planning of the City of Calcutta and Contiguous Areas: The Richards Report۔ Routledge۔ ص 492۔ISBN:978-1-317-61700-6
Arnab Chatterjee؛ Sudhakar Yarlagadda (2007)۔Econophysics of Wealth Distributions: Econophys-Kolkata I۔ Springer Science & Business Media۔ ص 248۔ISBN:9788847003897
Tanika Sarkar۔Calcutta: The Stormy Decades۔ Social Science Press۔ ص 486۔ISBN:978-9383166077
Ranabir Ray Choudhury۔A City in the Making: Aspects of Calcutta's Early Growth۔ Niyogi Books۔ ص 564۔ISBN:978-9385285288