بطریق اعظم یاپاپائے اعظم یاپوپ یابطریق، (انگریزی زبان میں :Pope) کے لغوی معنی باپ کے ہیں۔رومن کیتھولک کلیسیا کا سب سے بڑاپادری جسےیسوع مسیح کےرسول مقدسپطرس کا سلسلہ وار جانشین سمجھا جاتا ہے۔ اس کی رہائشروم کے وسط میں واقع ایک خود مختار ریاست میں ہے۔ جس کا نامویٹیکن سٹی ہے۔ شروع میں میں پوپ مسیحیوں کا نہ صرف مذہبی رہنما بلکہ ان کا سیاسی حاکم اعلیٰ تصور کیا جاتا تھا۔ اور یوںپاپائیت کا ایک دور یورپ کے اندر چلا۔ پوپ کی وفات کے بعد گرجاؤں کے صدور یاکردنال 18 دن کے اندر اندر خفیہ رائے شماری کے ذریعے اس کا جانشین منتخب کرتے ہیں۔
لفظ "بابا" (لاطینی: papa، یونانی: pappas) کا مطلب "والد" ہوتا ہے اور یہ لفظ محبت اور عقیدت کے اظہار کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ کیتھولک کلیسا میں "بابا" کا لقب روم کے بشپ کے لیے مخصوص ہے، جو کلیسا کا اعلیٰ ترین روحانی اور انتظامی پیشوا ہوتا ہے۔
کیتھولک عقائد کے مطابق، بابا حضرت پطرسؑ کا جانشین ہوتا ہے اور اُسے پوری کلیسا پر روحانی قیادت اور تعلیمی و انتظامی اختیار حاصل ہوتا ہے۔ وہ کرسی رسالت (Sancta Sedes) کا سربراہ بھی ہوتا ہے جو کلیسا کا مرکزی نظم و نسق سنبھالتا ہے۔ اسی حیثیت سے وہ ریاست ویٹی کن کے بھی سربراہ ہیں۔[1]
بابا کو مخصوص حالات میں "معصوم عن الخطا" تسلیم کیا جاتا ہے، یعنی جب وہ حضرت پطرسؑ کے تخت سے کسی عقیدے کی وضاحت بطور اعلان جاری کرے، تو وہ غلطی سے پاک سمجھا جاتا ہے۔[2]
بابا کا لقب پہلے اسکندریہ کے اساقفہ کے لیے مستعمل تھا، مگر رومی بابا اور اسکندریہ کے پاپا کے دائرۂ اختیار میں فرق ہے۔ رومی بابا کی ولایت عالمگیر ہوتی ہے، جبکہ اسکندریہ کا دائرہ صرف مصر اور اس کے آس پاس کے علاقوں تک محدود ہے۔[3]
تاریخی طور پر، پاپائیت نے مسیحیت کے فروغ، عقائدی اختلافات کے حل اور سیاسی ثالثی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ قرون وسطیٰ میں بابا اکثر یورپی بادشاہوں کے درمیان ثالث بنتے اور بڑی دنیوی طاقت کے مالک ہوتے۔ نشاۃ ثانیہ کے دور میں انھوں نے فن، فلسفے اور سائنسی تحقیقات کی سرپرستی کی۔[4][5][6]
1929ء میں ویٹی کن سٹی کے قیام سے کرسی رسالت کو مکمل خود مختاری حاصل ہوئی، جس سے پاپائیت کو دنیا کی کسی بھی سیاسی طاقت سے آزاد کیا گیا۔ اس کے بعد پاپائیت نے اپنی توجہ صرف مذہبی، اخلاقی اور انسانی حقوق کے امور پر مرکوز کر دی۔[7][8][9]
↑Collins, Roger.Keepers of the keys of heaven: a history of the papacy. Introduction (One of the most enduring and influential of all human institutions, (...) No one who seeks to make sense of modern issues within Christendom – or, indeed, world history – can neglect the vital shaping role of the popes.) Basic Books. 2009.سانچہ:ردمك.
↑Wetterau, Bruce. World history. New York: Henry Holt & co. 1994.
↑Michael Levey (1967)۔Early Renaissance۔ Penguin Books۔ 2022-06-19 کواصل سے آرکائیو کیا گیا
↑Faus, José Ignacio Gonzáles. "Autoridade da Verdade – Momentos Obscuros do Magistério Eclesiástico". Capítulo VIII: Os papas repartem terras – Pág.: 64–65 e Capítulo VI: O papa tem poder temporal absoluto – Pág.: 49–55. Edições Loyola.سانچہ:ردمك. Embora Faus critique profundamente o poder temporal dos papas ("Mais uma vez isso salienta um dos maiores inconvenientes do status político dos sucessores de Pedro" – pág.: 64), ele também admite um papel secular positivo por parte dos papas ("Não podemos negar que intervenções papais desse gênero evitaram mais de uma guerra na Europa" – pág.: 65).
↑História das Religiões. Crenças e práticas religiosas do século XII aos nossos dias. Grandes Livros da Religião. Editora Folio. 2008. Pág.: 89, 156–157.سانچہ:ردمك