پنجاببھارت کی ایک ریاست ہے جسے عام طور پر مشرقی پنجاب یا بھارتی پنجاب کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس کی سرحدیں مغرب میںپاکستان کے صوبہپنجاب، شمال میںجموں و کشمیر، شمال مشرق میںہماچل پردیش، جنوب میںہریانہ، جنوب مشرق میںچندی گڑھ اور جنوب مغرب میںراجستھان سے ملتی ہیں۔
ریاست کا کل رقبہ 50 ہزار 362 مربع کلومیٹر جبکہ آبادی 2000ء کے مطابق 24,289,296 ہے۔ بھارتی پنجاب کا دار الحکومتچندی گڑھ ہے جو پڑوسی ریاستہریانہ کا بھی دار الحکومت ہے۔ دیگر بڑے شہروں میںبھٹینڈہ،امرتسر،جالندھر،لدھیانہ اورپٹیالہ شامل ہیں۔
پنجاب فارسى زبان كے دو لفظوںپنج بمعنی پانچ (5) اورآب بمعنی پانی سے مل کر بنا ہے۔ یوں اس کا مطلبپانچ دریاؤں کی سرزمین لیا جاتا ہے۔[4]ان پانچ درياؤں كے نام ہيں:ستلج،بیاس،راوی،چناب اوردریائے جہلم۔یونانی اسے تاریخی طورپھن ٹھاپی سیمیا (Pentapotamia) کہتے تھے، ایک پانچ مرتکز دریاؤں کا اندرون ڈیلٹا۔[5]نام پنجاب بھارت کے وسطی ایشیائی ترکیائی فاتحین کی طرف سے علاقے کو دیا گیا۔ اور اور ترک-منگول مغلوں میں مقبول رہا۔[6][7][8]
بھارت کے دیگر صوبوں کی طرح صوبہ پنجاب کا سربراہ بھی ایکگورنر ہوتا ہے جسے مرکزی حکومت کے مشورے سےصدر بھارت منتخب کرتا ہے۔ جبکہ صوبے کاوزیر اعلی حکومت کا سربراہ ہوتا ہے، بیشتر انتظامی اختیارات اسی کے پاس ہوتے ہیں۔چندی گڑھ شہر صوبہ پنجاب کا دار الحکومت ہے اور یہیںودھان سبھا (قانون ساز اسمبلی) اور سیکریٹریٹ بھی موجود ہیں۔ نیز چندی گڑھ صوبہہریانہ اور بھارت کییونین علاقہ کا بھی دار الحکومت ہے۔ چندی گڑھ میں واقعپنجاب و ہریانہ عدالت عالیہ کا دائرہ کار پورے صوبہ پر محیط ہے۔[9]
پنجاب کی موجودہ قانون ساز اسمبلییک ایوانی ہے جس میں 117 ارکان ہیں۔ عام حالات میں اسمبلی کی کل مدت پانچ سال ہوتی ہے۔[10]
پنجاب کی جی ڈی پی ₹3.17 لاکھ کروڑ (امریکی$47 بلین) ہے۔ پنجاب بھارت میں سب سے زیادہ زرخیز علاقوں میں سے ایک ہے۔ خطہ گندم اگانے کے لیے مثالی ہے۔ چاول، گنا، پھل اور سبزیاں بھی کثرت سے پیدا ہوتے ہیں۔ بھارتی پنجاببھارت کا اناج گھر یابھارت کی روٹی کی ٹوکری کہلاتا ہے۔[11] یہ بھارت کی کپاس کا 10.26 فیصد، بھارت کی گندم کا 19.5٪ اور بھارت کے کل چاول کا 11٪ پیدا کرتا ہے۔
پنجاب میں عوامی نقل و حمل کے لیے بسیں، آٹو رکشے، بھارت ریلوے اور پاکستان کے ساتھ منسلکسمجھوتہ ایکسپریس بین الاقوامی ریلوے وغیرہ ذرائع نقل و حمل استعمال کیے جاتے ہیں۔ ریاست میں کثیر ٹرانسپورٹیشن سسٹم کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے۔
ریاست کے تقریبا تمام بڑے اور چھوٹے شہر ریلوے کے ذریعے منسلک ہیں۔ امرتسر جنکشن پنجاب کا مصروف ترین ریلوے اسٹیشن ہے، اس سے ریاست کے تمام بڑے شہروں کی ریلوے منسلک ہے۔
سکھ مت پنجاب کا بڑا مذہب ہے جو پنجاب کی کل آبادی کے 58٪ عوام کا مذہب ہے، دوسرے درجہ پرہندو مت ہے جس کے پیروکاروں کی تعداد 38.5٪ ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے اور سکھ مذہب کے آغاز سے قبل، ہندومت پنجابی لوگوں کا بنیادی مذہب تھا۔[12]سکھ مقدس مقامات میں سب سے مقدس مقام،ہرمندر صاحب، پنجاب کے شہر امرتسر میں واقع ہے اور اس کی نگران کمیٹیشرومنی گوردوارہ پربندک کمیٹی بھی امرتسر ہی میں ہے۔
مسلمان 1.93٪ ہیں، جو زیادہ ترملیر کوٹلہ میں ہیں۔ مسلم اکثریت کے ساتھ یہ واحد شہر دیگر میںلدھانہ شہر میں مسلمان آباد ہیں۔دیگر مذاہب میں جیسےمسیحیت 1.3٪ فیصد،بدھ مت 0.12٪ اورجین مت 0.12٪ فیصد آبادی کا مذہب ہے۔
پنجاب میں تعلیم کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پنجاب میں بھارت کے بے شمار مشہور تعلیمی ادارے، اسکول، کالج اور جامعات موجود ہیں جبکہ پنجاب زرعی جامعہ دنیا کی بلند پایہ زرعی جامعات میں شمار کی جاتی ہے۔ پنجاب میں اعلیٰ تعلیم کے بہت سے ادارے موجود ہیں (جن کی فہرست ذیل میں درج ہے)۔ ان اداروں میں عہد حاضر کے تمام شعبے فنون لطیفہ (arts)، بشریات (humanities)، سائنس، انجینئری،طب، قانون اور کاروبار کے نصاب گریجویٹ اور مابعد گریجویٹ کی سطح تک پڑھائے جاتے ہیں۔ مختلف شعبوں میں اعلیٰ تحقیق کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ پنجاب زرعی یونیورسٹی (Punjab Agricultural University) زراعت کے میدان میں دنیا کی اہم اور مستند ترین جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ اس یونیورسٹی نے 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں پنجاب کے سبز انقلاب میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔