Movatterモバイル変換


[0]ホーム

URL:


مندرجات کا رخ کریں
ویکیپیڈیاآزاد دائرۃ المعارف
تلاش

پنجاب، بھارت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
دیگر استعمالات کے لیے، دیکھیےپنجاب۔
ریاست پنجاب
اوپر سے نیچے: ہرمندر صاحب، قلعہ مبارک، گاندھی بھون، واہگہ سرحد، جلیانوالا باغ یادگار
عرفیت:پانچ دریاؤں کی سرزمین
بھارت میں مقام
بھارت میں مقام
پنجاب کا نقشہ
پنجاب کا نقشہ
ملکبھارت
بنیاد1 نومبر 1966ء (1966ء-11-01)
دار الحکومتچندی گڑھ
سب سے بڑا شہرلدھیانہ
اضلاع22
حکومت
 • گورنرکپتان سنگھ سولانکی
 • چیف منسٹرپرکاش سنگھ بادل (شرومنی اکالی دل)
 • پنجاب قانون ساز اسمبلییک ایوانیت (117 نشستیں)
 • پارلیمانی حلقے13
 • عدالت عالیہعدالت عالیہ پنجاب و ہریانہ
رقبہ
 • کل50,362 کلومیٹر2 (19,445 میل مربع)
رقبہ درجہ20ویں
بلند ترین  مقام550 میل (1,800 فٹ)
پست ترین  مقام150 میل (490 فٹ)
آبادی(2011)[1]
 • کل27,704,236
 • درجہبھارت کی ریاستیں بلحاظ آبادی
 • کثافت550/کلومیٹر2 (1,400/میل مربع)
زبانیں
 • سرکاریپنجابی زبان
 • دیگرہندی،انگریزی
 • علاقائیماجھی،مالوی،ڈوگری،باگڑی
منطقۂ وقتبھارتی معیاری وقت (UTC+05:30)
آیزو 3166 رمزآیزو 3166-2:IN
انسانی ترقیاتی اشاریہIncrease 0.679 (medium)
ایچ ڈی آئی درجہ9th (2005)
خواندگی76.68%
ویب سائٹپنجاب حکومت
^† ہریانہ کے ساتھ مشترکہ دار الحکومت
Symbols of پنجاب
EmblemLion Capital of Ashoka with Wheat stem (above) and Crossed Swords (below)
Languageپنجابی زبان
Danceبھنگڑا،گدا
AnimalCannot use|animal= with|bird=
Birdباز[2]
Treeشیشم
Riverسندھ
Sportپنجابی کبڈی

پنجاببھارت کی ایک ریاست ہے جسے عام طور پر مشرقی پنجاب یا بھارتی پنجاب کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس کی سرحدیں مغرب میںپاکستان کے صوبہپنجاب، شمال میںجموں و کشمیر، شمال مشرق میںہماچل پردیش، جنوب میںہریانہ، جنوب مشرق میںچندی گڑھ اور جنوب مغرب میںراجستھان سے ملتی ہیں۔

ریاست کا کل رقبہ 50 ہزار 362 مربع کلومیٹر جبکہ آبادی 2000ء کے مطابق 24,289,296 ہے۔ بھارتی پنجاب کا دار الحکومتچندی گڑھ ہے جو پڑوسی ریاستہریانہ کا بھی دار الحکومت ہے۔ دیگر بڑے شہروں میںبھٹینڈہ،امرتسر،جالندھر،لدھیانہ اورپٹیالہ شامل ہیں۔

بیشتر آبادیسکھ مت کی پیروکار ہیں۔

زراعت پنجاب میں سب سے بڑی صنعت ہے۔[3] دیگر بڑی صنعتوں میںسائنسی آلات، زرعی اجناس، بجلی کا سامان، مالیاتی خدمات، مشینی اوزار،کھیلوں کا سامان،نشاستہ،کھاد،سائیکل،لباس اور سیاحت شامل ہیں۔

وجہ تسمیہ

[ترمیم]

پنجاب فارسى زبان كے دو لفظوںپنج بمعنی پانچ (5) اورآب بمعنی پانی سے مل کر بنا ہے۔ یوں اس کا مطلبپانچ دریاؤں کی سرزمین لیا جاتا ہے۔[4]ان پانچ درياؤں كے نام ہيں:ستلج،بیاس،راوی،چناب اوردریائے جہلم۔یونانی اسے تاریخی طورپھن ٹھاپی سیمیا (Pentapotamia) کہتے تھے، ایک پانچ مرتکز دریاؤں کا اندرون ڈیلٹا۔[5]نام پنجاب بھارت کے وسطی ایشیائی ترکیائی فاتحین کی طرف سے علاقے کو دیا گیا۔ اور اور ترک-منگول مغلوں میں مقبول رہا۔[6][7][8]

تاریخ

[ترمیم]
تفصیلی مضمون کے لیےتاریخ پنجاب ملاحظہ کریں۔
مزید دیکھیے:خطۂ پنجاب

سکھ سلطنت

[ترمیم]
تفصیلی مضمون کے لیےسکھ سلطنت ملاحظہ کریں۔

سکھ سلطنتبرصغیر میں ایک اہم طاقت تھی جومہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت کے تحت ابھری۔جس نے1799ء میںلاہور پر قبضہ کر لیا اور پنجاب کے ارد گردعلاقوں پر سلطنت قائم کی۔ سلطنت1799ء سے1849ء تک قائم رہی۔

صوبہ پنجاب (برطانوی ہند)

[ترمیم]
تفصیلی مضمون کے لیےصوبہ پنجاب (برطانوی ہند) ملاحظہ کریں۔

برطانوی راج کے دوران میں پنجاببرطانوی ہند کا ایک صوبہ تھا۔1849ء میںایسٹ انڈیا کمپنی نے اسےبرطانوی ہندوستان میں شامل کیا۔صوبہ پنجاببرطانوی ہندوستان میں شامل ہونے والے آخری علاقوں میں سے ایک ہے۔یہ پانچ ڈویژنز لاہور، دہلی، جالندھر ،راولپنڈی،ملتان اور بہت سی نوابی ریاستوں پر مشتمل تھا۔

حکومت اور سیاست

[ترمیم]
تفصیلی مضامین کے لیےحکومت پنجاب (بھارت)،پنجاب کی سیاست (بھارت)  اورفہرست اضلاع پنجاب (بھارت) ملاحظہ کریں۔

بھارت کے دیگر صوبوں کی طرح صوبہ پنجاب کا سربراہ بھی ایکگورنر ہوتا ہے جسے مرکزی حکومت کے مشورے سےصدر بھارت منتخب کرتا ہے۔ جبکہ صوبے کاوزیر اعلی حکومت کا سربراہ ہوتا ہے، بیشتر انتظامی اختیارات اسی کے پاس ہوتے ہیں۔چندی گڑھ شہر صوبہ پنجاب کا دار الحکومت ہے اور یہیںودھان سبھا (قانون ساز اسمبلی) اور سیکریٹریٹ بھی موجود ہیں۔ نیز چندی گڑھ صوبہہریانہ اور بھارت کییونین علاقہ کا بھی دار الحکومت ہے۔ چندی گڑھ میں واقعپنجاب و ہریانہ عدالت عالیہ کا دائرہ کار پورے صوبہ پر محیط ہے۔[9]

پنجاب کی موجودہ قانون ساز اسمبلییک ایوانی ہے جس میں 117 ارکان ہیں۔ عام حالات میں اسمبلی کی کل مدت پانچ سال ہوتی ہے۔[10]

ذیلی تقسیم

[ترمیم]
Districts of Punjab along with their headquarters, before 2007

انتظامیہ ذیلی تقسیم

[ترمیم]
تفصیلی مضمون کے لیےفہرست اضلاع پنجاب (بھارت) ملاحظہ کریں۔

ریاست پنجاب 22 اضلاع پر مشتمل ہے، جوتحصیلوں اور بلاک میں تقسیم ہیں۔

معیشت

[ترمیم]
تفصیلی مضمون کے لیےپنجاب، بھارت کی معیشت ملاحظہ کریں۔
مزید دیکھیے:پنجاب کی زمینی پیمائش

پنجاب کی جی ڈی پی ₹3.17 لاکھ کروڑ (امریکی$47 بلین) ہے۔ پنجاب بھارت میں سب سے زیادہ زرخیز علاقوں میں سے ایک ہے۔ خطہ گندم اگانے کے لیے مثالی ہے۔ چاول، گنا، پھل اور سبزیاں بھی کثرت سے پیدا ہوتے ہیں۔ بھارتی پنجاببھارت کا اناج گھر یابھارت کی روٹی کی ٹوکری کہلاتا ہے۔[11] یہ بھارت کی کپاس کا 10.26 فیصد، بھارت کی گندم کا 19.5٪ اور بھارت کے کل چاول کا 11٪ پیدا کرتا ہے۔

نقل و حمل

[ترمیم]
تفصیلی مضمون کے لیےپنجاب روڈویز ملاحظہ کریں۔

پنجاب میں عوامی نقل و حمل کے لیے بسیں، آٹو رکشے، بھارت ریلوے اور پاکستان کے ساتھ منسلکسمجھوتہ ایکسپریس بین الاقوامی ریلوے وغیرہ ذرائع نقل و حمل استعمال کیے جاتے ہیں۔ ریاست میں کثیر ٹرانسپورٹیشن سسٹم کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے۔

فضائی

پنجاب میں چھ شہری ہوائی اڈے ہیں۔ امرتسر میںسری گرو رام داس جی بین الاقوامی ہوائی اڈا اوراجیت گڑھ میںچندی گڑھ بین الاقوامی ہوائی اڈا یہ دو پنجاب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے ہیں۔دیگر ہوائی اڈوں میں:

ریلوے

ریاست کے تقریبا تمام بڑے اور چھوٹے شہر ریلوے کے ذریعے منسلک ہیں۔ امرتسر جنکشن پنجاب کا مصروف ترین ریلوے اسٹیشن ہے، اس سے ریاست کے تمام بڑے شہروں کی ریلوے منسلک ہے۔

مذہب

[ترمیم]



پنجاب، بھارت میں مذہب، (2011)

  سکھ مت (58%)
  ہندو مت (38.5%)
  اسلام (1.9%)
  مسیحیت (1.3%)
  دیگر اور لامذہب (0.60%)

سکھ مت پنجاب کا بڑا مذہب ہے جو پنجاب کی کل آبادی کے 58٪ عوام کا مذہب ہے، دوسرے درجہ پرہندو مت ہے جس کے پیروکاروں کی تعداد 38.5٪ ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے اور سکھ مذہب کے آغاز سے قبل، ہندومت پنجابی لوگوں کا بنیادی مذہب تھا۔[12]سکھ مقدس مقامات میں سب سے مقدس مقام،ہرمندر صاحب، پنجاب کے شہر امرتسر میں واقع ہے اور اس کی نگران کمیٹیشرومنی گوردوارہ پربندک کمیٹی بھی امرتسر ہی میں ہے۔

مسلمان 1.93٪ ہیں، جو زیادہ ترملیر کوٹلہ میں ہیں۔ مسلم اکثریت کے ساتھ یہ واحد شہر دیگر میںلدھانہ شہر میں مسلمان آباد ہیں۔دیگر مذاہب میں جیسےمسیحیت 1.3٪ فیصد،بدھ مت 0.12٪ اورجین مت 0.12٪ فیصد آبادی کا مذہب ہے۔

زبان

[ترمیم]
تفصیلی مضامین کے لیےپنجابی زبان  اورگرمکھی ملاحظہ کریں۔

گرمکھی رسم الخط میں لکھی جانے والیپنجابی زبان ریاستی سرکاری زبان ہے۔ پنجابیدنیا کیدسویں سب سے زیادہ بولی جانے والی اور ایشیا کی پانچویں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔

تعلیم

[ترمیم]
تفصیلی مضمون کے لیےبھارتی پنجاب میں تعلیم ملاحظہ کریں۔

پنجاب میں تعلیم کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پنجاب میں بھارت کے بے شمار مشہور تعلیمی ادارے، اسکول، کالج اور جامعات موجود ہیں جبکہ پنجاب زرعی جامعہ دنیا کی بلند پایہ زرعی جامعات میں شمار کی جاتی ہے۔ پنجاب میں اعلیٰ تعلیم کے بہت سے ادارے موجود ہیں (جن کی فہرست ذیل میں درج ہے)۔ ان اداروں میں عہد حاضر کے تمام شعبے فنون لطیفہ (arts)، بشریات (humanities)، سائنس، انجینئری،طب، قانون اور کاروبار کے نصاب گریجویٹ اور مابعد گریجویٹ کی سطح تک پڑھائے جاتے ہیں۔ مختلف شعبوں میں اعلیٰ تحقیق کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ پنجاب زرعی یونیورسٹی (Punjab Agricultural University) زراعت کے میدان میں دنیا کی اہم اور مستند ترین جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ اس یونیورسٹی نے 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں پنجاب کے سبز انقلاب میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]
Book icon
3

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Census of India, 2011. Census Data Online, Population.
  2. "State Bird is BAAZ"۔ 2014-07-14 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2016-07-14
  3. "Punjab"۔ Overseas Indian Facilitation Centre۔ 2019-01-06 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2011-09-08
  4. Pritam Singh (2008)۔Federalism, Nationalism and Development: India and the Punjab Economy۔ London; New York: Routledge۔ ص 3۔ISBN:0-415-45666-5۔ 2019-01-06 کو اصل سےآرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2016-08-04
  5. "WHKMLA : History of West Punjab"۔zum.de۔ 2019-01-06 کو اصل سےآرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2016-08-04
  6. Robert L. Canfield (1991)۔Turko-Persia in Historical Perspective۔کیمبرج, United Kingdom: Cambridge University Press۔ ص 1 ("Origins")۔ISBN:0-521-52291-9
  7. Annemarie Shimmel (2004)۔The Empire of the Great Mughals: History, Art and Culture۔ London, United Kingdom: Reaktion Books Ltd.۔ISBN:1-86189-1857
  8. "Jurisdiction and Seats of Indian High Courts"۔ Eastern Book Company۔ 2019-01-06 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2008-05-12
  9. "Punjab Legislative Assembly"۔Legislative Bodies in India۔ National Informatics Centre, Government of India۔ 2019-01-06 کو اصل سےآرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2008-05-12
  10. "Welcome to Official Web site of Punjab, India"۔ اصل سے آرکائیو شدہ بتاریخ 2007-04-17۔ اخذ شدہ بتاریخ2016-08-05{{حوالہ ویب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: BOT: original URL status unknown (link)
  11. Tribune News Service (26 اگست 2015)۔"Migration may have led to decline in Sikh count"۔tribuneindia.com۔ 2019-01-06 کو اصل سےآرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2015-08-26

مزید پڑھیے

[ترمیم]
  • Radhika Chopra.Militant and Migrant: The Politics and Social History of Punjab (2011)
  • Harnik Deol.Religion and Nationalism in India: The Case of the Punjab (Routledge Studies in the Modern History of Asia) (2000)
  • Harjinder Singh Dilgeer,Encyclopedia of Jalandhar, Sikh University Press, Brussels, Belgium (2005)
  • Harjinder Singh Dilgeer,SIKH HISTORY in 10 volumes, Sikh University Press, Brussels, Belgium (2010–11)
  • J. S. Grewal.The Sikhs of the Punjab (The New Cambridge History of India) (1998)
  • J. S. Grewal.Social and Cultural History of the Punjab: Prehistoric, Ancient and Early Medieval (2004)
  • Nazer Singh.Delhi and Punjab: Essays in history and historiography (1995)
  • Tai Yong Tan.The Garrison State: Military, Government and Society in Colonial Punjab, 1849–1947 (Sage Series in Modern Indian History) (2005)
اولین مآخذ
  • J. C. Aggarwal and S. P. Agrawal, eds.Modern History of Punjab: Relevant Select Documents (1992)
  • R. M. Chopra, " The Legacy of The Punjab ", 1997, Punjabee Bradree, Calcutta.

بیرونی روابط

[ترمیم]
ویکی ذخائر پرپنجاب، بھارت سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔
ہماچل پردیشجموں و کشمیر
چندی گڑھ، دار الحکومتپنجاب، پاکستان
  پنجاب    
ہریانہراجستھان
پنجاب
علاقے
اضلاع
اہم شہر
ریاستیں
بھارت کا پرچم
یونین علاقے
پنجاب کے پانچ دریا

معلومات کتب خانہ
اخذ کردہ از «https://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=پنجاب،_بھارت&oldid=8660626»
زمرہ جات:
پوشیدہ زمرہ جات:

[8]ページ先頭

©2009-2026 Movatter.jp