پطرس (انگریزی: Peter) یونانی نام "پتروس" جس کا معنی ہے "پتھر"۔۔[3] اس کا اصل نام "شمعون" تھا۔[4]کاتھولککلیسیا اس کو اپنا بانی سمجھتا ہے اس سے کچھ کتب بھی منسوب ہیں۔ یہی پہلاپوپ مانا جاتا ہے۔ رومی بادشاہنیرو کے عہد میں اس کو اسx طرح کیصلیب پر پھانسی دی گئی تھی۔[5]
اناجیل ہمنوا کے مطابق پطرس کیساس کویسوع مسیح نے ان کےکفر ناحوم نامی گھر میں شفا دی۔[8][9][10] انجیلی روایت کے مطابق پطرس کے بھائیاندریاس نے پطرس کا تعارف مسیح سے کروایا اور اس طرح پطرس ایمان لایا، جس پر مسیح نے اس سے کہا
”
تو یوحنا کا بیٹا شمعون ہے، تو کیفا یعنی پطرس کہلائے گا۔[11]
“
عہد نامہ جدید میں پطرس نام اس کے علاوہ کسی دوسرے کا نہیں ہے۔ جبگلیل میں تبلیغ کا عمل شروع کیا جانے لگا تو تب پہلی بار12 افراد چنے گئے جن کو میں مسہمانحواری اور مسیحی شاگرد اور رسول کہتے ہیں۔ ان میں سے ایکپطرس بھی تھا۔[12] پطرس کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ جلد باز تھا اور رہنما بننے کی کوشش کرتا تھا جس بنا پر باقی افراد اس سے اختلاف کرتے تھے۔[13][14][15] انجیل کے بیان کے مطابق پطرس نے آخری دنوں میں کچھ باتوں میں مسیح پر شک کیا۔ اور آخری دن تین بار مسیح کا انکار کیا۔[16] اور اس کے بعد وہ غائب ہو جاتا ہے اور واقعہ صلیب کے بعد نظر آتا ہے۔ اس کے بعد یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ بعد وصال جب مسیح جی اٹھا تو اس نے پطرس کو بحال کر دیا۔[17]
مسیح کو تین بار رد کرنے کے بعد پطرس غائب ہو گیا، جب واقعہ صلیب ہوا تو تب وہ وہاں نہیں تھا، لیکن اگلے دن وہ صبح مسیح کو زندہ دیکھتا ہے۔ اس کے بعد پطرسانطاکیہ چلا گیا جہاں پہلیمسیحی کلیسا قائم کی اور اس طرح پطرس پہلاپوپ بنا، اس کے بعدروم چلا گيا اور 25 برس تک تبلیغ میں مشغول رہا، آخری عمر میںنیرو نے پطرس کو بد مذہبی پھیلانے کے الزام میںx طرح کی صلیب پر پھانسی دی، کہا جاتا ہے کہ اس طرح کی صلیب پر پھانسی کی خواہش خود پطرس نے کی تھی۔ اس طرح کی صلیب کو آج بھی پطرس کی صلیب کہا جاتا ہے۔[18]