منفرد طرز تعمیر کی حامل مسجد حسن الثانیمراکش کے شہرکاسابلانکا میں واقع ہے۔ اسمسجد کا ڈیزائنفرانسیسی ماہر تعمیراتمائیکل پنیسو نے تیار کیا۔ اس نے مسجد کے ڈیزائن کی تیاری میںاسلامی فن تعمیر سے مدد لی۔ مسجد میں ایک لاکھ سے زائد نمازیوں کی گنجائش ہے۔
یہ دنیا کی ساتویں بڑی مسجد ہے۔ اس کی تعمیر پر 80 کروڑ ڈالر کی لاگت آئی۔ اس مسجد کا مینار دنیا کا سب سے بلند مینار ہے جس کی بلندی 210 میٹر(689 فٹ) ہے۔ اس مسجد کی تعمیر اس طرح کی گئی ہے کہ اس کا نصف حصہ سمندر سے حاصل کی گئی زمین پر اور نصف حصہبحر اوقیانوس کی سطح پر ہے۔ اس کے فرش کا ایک حصہ شیشے کا ہے جہاں سے سمندر کا پانی دکھائی دیتا ہے۔
اسلامی فن تعمیر کے ساتھ ساتھ یہ مسجد کئی جدید سہولیات سے بھی مزین ہے جن میںزلزلے سے محفوظ ہونا،سردیوں میں فرش کا گرم ہونا، برقی دروازے اور ضرورت کے مطابق کھولنے یا بند کرنے کے قابل چھت شامل ہیں۔
اس کا طرز تعمیر اسپین میں قائمالحمرا اورمسجد قرطبہ سے ملتا جلتا لگتا ہے۔ مسجد کے مینار سے سبز رنگ کی شعاع کا اخراج ہوتا ہے اور یہ شعاع نہایت دور سے دیکھی جا سکتی ہے اور اس سے شہر کے رہنے والوں کوقبلے کی سمت کا اندازہ ہوتا ہے۔
مسجد کے تعمیراتی کام کا آغاز12 جولائی1986ء کو کیا گیا اور افتتاح سابق شاہِ مراکشحسن ثانی کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر 1989ء میں کیا جانا تھا لیکن مسجد کے تعمیراتی کام میں تاخیر کے باعث اس کا افتتاح30 اگست1993ء کو ہوا۔مسجد کی تعمیر میں مراکش بھر کے 6 ہزار ماہرین نے 5 سال تک محنت کی۔