یہ جگہ موجودہسعودی عرب کے انتظامی خطہالمدینۃ کے علاقےالعلا میں واقع ہے جوظہور اسلام سے قبل کا ایک انسانی معاشرہ اور تہذیب ہے۔ اس قدیم شہر کی اکثر باقیاتسلطنت نبطی سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ سلطنت کی جنوبی طرف اور پترہ { عربی میں البتراء} جو دار الحکومت تھا، کے بعد سب سے بڑی ہے۔[1] قدیملحیان اور قدیم 'رومی' بادشاہت کے قبضہ جات کے آثار، 'نباتین' سلطنت سے قبل اور بعد کے بھی ملے ہیں۔
قرآن شریف[2][3][4][5][6][7][8] سے یہ ثابت ہے کہ 3 تین ہزارقبل مسیح کی ہزاری میں، یہاں پر 'قومثمود' آباد تھی۔ اسلامی عبارات اور معلومات کے مطابق قوم ثمود جس نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے تھے، ان کیبت پرستی اور اس پر اٹل قائم رہنے اور حضرتصالح علیہ السلام جن کو اس قوم کی طرف اللہ نے نبی بنا کر ہدایت و راہنمائی کے لیے بھیجا کو خفیہ طور پر قتل کرنے اور حق و ہدایت کی راہ نہ اختیار کرنے کے عزائم پر اللہ تعالٰی نےزلزلہ اور سخت بجلی و گرج چمک کے برساو کے ساتھ بطور سزا کے عذاب نازل کیا۔ اور قوم ثمود کے نافرمان لوگ نیست و نابود ہو گئے۔ یوں مدائن صالح والی جگہ اسی وقت عذاب الہی سے اللہ کے غضب و قہر کی عبرتناک نشانی بن گئی۔سعودی عرب کی حکومت 1972ء سے اس شہر کو اس کی اس تاریخی حیثیت سے ہٹ کر اسے سیاحت و تفریح کی کشش کے لیے مدائن صالح کے طور سے فروغ دے رہی ہے اور اس کو قومی تہذیبی تشخص کی حیثیت سے محفوظ کیا گیا ہے۔قدیم مٹی ہوئی تہذیب 'سلطنت نباتین' کے انتہائی محفوظ حالت میں موجود خاص کر 131 پتھروں کے تراشیدہ گھر اور ان کے بیرونی داخلی دروازوں کو، سنہ 2008ء میںاقوام متحدہ کے ادارےیونیسکو نے اسے سعودی عرب کی پہلی عالمی ورثہ کی جگہ قرار دیا ہے۔یہ عرب کی قدیم ترین اقوام میں سے دوسری قوم ہے جو عاد کے بعد سب سے زیادہ مشہور و معروف ہے۔ نزول قرآن سے پہلے اس کے قصّے اہل عرب میں زباں زد عام تھے۔زمانہ جاہلیت کے اشعار اور خطبوں میں بکثرت اس کا ذکر ملتا ہے۔اسیریا کے کتبات اوریونان،اسکندریہ اورروم کے قدیم مورخین اورجغرافیہ نویس بھی اس کا ذکر کرتے ہیں۔مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے تک اس قوم کے کچھ بقایا موجود تھے، چنانچہرومی مورخین کا بیان ہے کہ یہ لوگرومن افواج میں بھرتی ہوئے اورنبطیوں کے خلاف لڑے جن سے ان کی دشمنی تھی۔
اس قوم کا مسکن شمالی مغربی عرب کا وہ علاقہ تھا جو آج بھی الحَجِر کے نام سے موسوم ہے۔ موجودہ زمانہ میںمدینہ اورتبوک کے درمیانحجاز ریلوے پر ایک اسٹیشن پڑتا ہے جسے مدائنِ صالح کہتے ہیں۔ یہیثمود کا صدر مقام تھا اور قدیم زمانہ میں حجر کہلاتا تھا۔ اب تک وہاں ہزاروں ایکڑ کے رقبے میں وہ سنگی عمارتیں موجود ہیں جن کو ثمود کے لوگوں نے پہاڑوں میں تراش تراش کر بنایا تھا اور اس شہر خموشاں کو دیکھ کر اندازہ کیا جاتا ہے کہ کسی وقت اس شہر کی آبادی چار پانچ لاکھ سے کم نہ ہو گی۔نزول قرآن کے زمانے میں حجاز کے تجارتی قافلے انآثار قدیمہ کے درمیان سے گذرا کرتے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)غزوہ تبوک کے موقع پر جب ادھر سے گذرے تو آپ نے مسلمانوں کو یہ آثار عبرت دکھائے اور وہ سبق دیا جو آثار قدیمہ سے ہر صاحب بصیرت انسان کو حاصل کرنا چاہیے۔ ایک جگہ آپ نے ایک کنویں کی نشان دہی کر کے بتایا کہ یہی وہ کنواں ہے جس سے حضرت صالح کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ صرف اسی کنویں سے پانی لینا، باقی کنووں کا پانی نہ پینا۔ ایک پہاڑی درے کو دکھا کر آپ نے بتایا کہ اسی درے سے وہ اونٹنی پانی پینے کے لیے آتی تھی۔ چنانچہ وہ مقام آج بھیفَجُّ الناقہ کے نام سے مشہور ہے۔ ان کے کھنڈروں میں جو مسلمان سیر کرتے پھر رہے تھے ان کو آپ نے جمع کیا اور ان کے سامنے ایک خطبہ دیا جس میں ثمود کے انجام پر عبرت دلائی اور فرمایا کہ یہ اس قوم کا علاقہ ہے جس پر خدا کا عذاب نازل ہوا تھا، لہٰذا یہاں سے جلدی گذر جاؤ، یہ سیرگاہ نہیں ہے بلکہ رونے کا مقام ہے۔[9]