Movatterモバイル変換


[0]ホーム

URL:


مندرجات کا رخ کریں
ویکیپیڈیاآزاد دائرۃ المعارف
تلاش

صلح نامہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

صُلْح نامَہ یامُعاہَدَۂ اَمْن دو یا دو سے زیادہ متحارب فریقوں عموماًملکوں یاحکومتوں کے درمیان ایک باضابطہمعاہدہ ہوتا ہے جس کے ذریعے ان کے درمیان جنگ کی حالت کو رسمی طور پر ختم کیا جاتا ہے۔[1] یہالتوائے جنگ (یا عارضی صلح) سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ یہ محض لڑائی روکنے کا معاہدہ ہوتا ہے؛خود سپردگی سے بھی مختلف ہے جس میں کوئی فوج اپنے ہتھیار چھوڑنے پر آمادہ ہوتی ہے؛ اور نہ یہ صرفجنگ بندی یا صلح کے مترادف ہے جس میں فریق وقتی یا مستقل طور پر لڑائی روکنے پر اتفاق کر لیتے ہیں۔

سفارت کاری میں صلح نامے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آتی ہے کہ اگرچہ جنگ عملاً ختم ہو جائے اور لڑائی رک جائے لیکن قانونی اور سیاسی طور پر جنگ کی حالت خود بخود ختم نہیں ہوتی۔ حقیقی لڑائی کے خاتمے کے باوجود متحارب فریق قانوناً ایک دوسرے کے دشمن ہی سمجھے جاتے ہیں۔ اسی لیے ”حالتِ جنگ“ کو ایک ایسی قانونی حالت کہا جاتا ہے جو سرکاری اعلان کے ذریعے قائم اور ختم ہوتی ہے، خواہ عملی طور پر مسلح تصادم ہو یا نہ ہو اور عموماً اس میں جنگ کے قوانین لاگو رہتے ہیں۔[2] چنانچہ جب لڑائی ختم ہو جاتی ہے تو بھی سابقہ متحارب فریقوں کے لیے صلح نامہ ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ قانونی طور پر امن کی حالت میں منتقلی کے دوران پیش آنے والے تمام معاملات پر باقاعدہ اتفاق کر سکیں۔

صلح نامہ کے اجزا

[ترمیم]

کسی معاہدے کا مواد عموماً اس تنازع کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے جسے ختم کیا جا رہا ہو۔ اگر تنازع کئی فریقوں کے درمیان اور بڑے پیمانے پر ہو تو یا تو ایک جامع بین الاقوامی معاہدہ کیا جاتا ہے جو تمام مسائل کا احاطہ کرتا ہے یا پھر ہر فریق کے ساتھ الگ الگ معاہدے طے پاتے ہیں۔

صلح نامے میں شامل کیے جانے والے ممکنہ امور میں درج ذیل نکات شامل ہو سکتے ہیں:

  • ریاستیسرحدوں کا باضابطہ تعین
  • آئندہتنازعات کے حل کے طریقہ کار
  • وسائل تک رسائی اور ان کی تقسیم
  • مہاجرین کی حیثیت
  • جنگی قیدیوں کی حیثیت
  • پرانےقرضوں کا تصفیہ
  • نا انصافی یا غیر منصفانہطرزِ عمل کی وضاحت
  • سابقہ معاہدات کا دوبارہ نفاذ
  • انتقامی اقدامات سے متعلق شقیں

جدید تاریخ میں بعض پیچیدہ اور دیرینہ تنازعات میں پہلےجنگ بندی تک بات پہنچتی ہے اس کے بعدامن کے ایک باقاعدہ عمل کے ذریعے مرحلہ وار اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد دونوں جانب سے مطلوبہ حتمی ہدف (یعنی پائیدار امن اور صلح نامے پر دستخط) تک پہنچنا ہوتا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Sanan Naraghi-Anderlini (2007)."Peace Negotiations and Agreements"(PDF).Inclusive Security (بزبان انگریزی).
  2. state of war
اخذ کردہ از «https://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=صلح_نامہ&oldid=9320218»
زمرہ جات:
پوشیدہ زمرہ جات:

[8]ページ先頭

©2009-2026 Movatter.jp