Movatterモバイル変換


[0]ホーム

URL:


مندرجات کا رخ کریں
ویکیپیڈیاآزاد دائرۃ المعارف
تلاش

سواد (عراق)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
سواد (عراق)
انتظامی تقسیم
ملکعراق  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
قابل ذکر
جیو رمز403757 ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
درستی -ترمیم سانچہ دستاویز دیکھیے
اسلامی فتوحات کے دور میں سواد ، عراق۔

سوادِ عراق وہ نام ہے جو مسلم فاتحین نےبین النہرین کے جنوبی زرعی علاقوں پر رکھا، یعنیدجلہ وفرات کے کنارے اور ان کے درمیانی زمینیں پر رکھا تھا ۔

معجم البلدان کے مطابق:یاقوت الحموی (وفات 626ھ) نے لکھا ہے کہ سوادِ عراق سے مراد عراق کے وہ دہقانی علاقے اور زمینیں ہیں جنہیں مسلمانوں نے حضرتعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں فتح کیا۔

اس نے اس نام کی وجہِ تسمیہ بیان کرتے ہوئے کہا:

“اسے سواد (یعنی سیاہ زمین) اس لیے کہا گیا کہ وہ کھیتیوں، کھجوروں اور درختوں کی گھنیات سے سیاہ دکھائی دیتی تھی۔ کیونکہ جب جزیرۂ عرب — جو بنجر اور بے درخت زمین تھی کے قریب پہنچے تو ان کے سامنے کھیتوں اور درختوں کی سبزہ زار زمین نظر آتی، تو وہ اسے ‘سواد’ کہتے، جیسے دور سے کوئی چیز دکھائی دے تو کہا جائے: یہ کیا سیاہی ہے؟ عرب لوگ سبز رنگ کو بھی سواد (سیاہی) کہتے تھے اور سواد کو سبز۔”

پھر اس نے اس کا جغرافیائی دائرہ متعین کرتے ہوئے لکھا:

“سواد کی حد شمال میں حدیثۂموصل سے لے کر جنوب میںعبادان تک طویل پھیلی ہوئی ہے اور مغرب میں عذیبِقادسیہ سے لے کر مشرق میںحلوان تک اس کی چوڑائی ہے۔”

سواد کی زمین کی ملکیت

[ترمیم]
سوادِ عراق — مستشرقلی اسٹرینج کی کتاب سے ماخوذ نقشہ۔

سوادِ عراق کی زمین کے بارے میںصحابہ کے درمیان ایک فقہی بحث ہوئی۔ یہ زمین حضرتعمر بن خطاب کے دور میںقادسیہ کی جنگ کے بعد فتح ہوئی۔ رسولِ اکرم ﷺ کا معمول یہ تھا کہ جنگی غنیمت (مالِ غنیمت) کو مجاہدین میں تقسیم کیا جاتا — اس طرح کہ 80٪ حصہ مجاہدین کو دیا جاتا اور 20٪ حصہ (یعنی خمس) مسلمانوں کے عمومی مصالح (فلاحی امور) میں خرچ کیا جاتا۔ اس بارے میں قرآن میں ارشاد ہے:

"اور جان لو کہ جو کچھ تمھیں مالِ غنیمت حاصل ہو تو بے شک اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور رسول کے قرابت داروں، یتیموں، محتاجوں اور مسافروں کے لیے ہے" (سورۃ الأنفال: 41)[2]

جب سواد کی زمین فتح ہوئی تو صحابہ کے درمیان اختلاف ہوا:

بلال بن رباح ،عمرو بن العاص اور زبیر بن عوام نے رائے دی کہ زمین کو تقسیم کر دیا جائے۔جبکہ علی بن ابی طالب، عثمان بن عفان، معاذ بن جبل، طلحہ بن عبید اللہ، ابو عبیدہ بن جراح اور عبد اللہ بن عمر اس کے مخالف تھے اور تقسیم کے قائل نہ تھے۔

تمام انصار نے بھی عدمِ تقسیم کی رائے اختیار کی۔آخرکار حضرتعمر بن خطاب نے اس اختلاف کا فیصلہ کیا اور یہ رائے دی کہ یہ زمین تمام مسلمانوں کی مشترکہ ملکیت ہو اور قرآن کی اس آیت سے استدلال کیا:

"جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان بستیوں کے لوگوں سے بطورِ فے عطا کیا، وہ اللہ، رسول، قرابت داروں، یتیموں، محتاجوں اور مسافروں کے لیے ہے — تاکہ یہ مال تمھارے امیروں کے درمیان ہی نہ گردش کرتا رہے" (سورۃ الحشر: 7)[3]

حضرتعمر بن خطابرضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:

"مجھے لگتا ہے یہ آیت تمام لوگوں پر عام ہے۔"[4]

چنانچہ صحابہ نے اس پر اتفاق کیا کہ سواد کی زمین اپنے اصل کاشت کاروں (اہلِ زمین) کے ہاتھ میں رہے، مگر ان پر خراج (ٹیکس) عائد کیا جائے، جو مسلمانوں کےبیت المال میں جمع ہو۔[5]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1.  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"صفحہ سواد (عراق) في GeoNames ID"۔GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 فروری 2026ء{{حوالہ ویب}}:تحقق من التاريخ في:|accessdate= (معاونت) و|accessdate= میں 15 کی جگہ line feed character (معاونت)
  2. سورة الأنفال، آية: 41.
  3. ملكية الأرض في الإسلام، ص. 9،عبد الكريم مطيع الحمداوي - الحركة الإسلامية المغربية. وصل لهذا المسار في 26 جمادى الثانية 1434 هـ.[مردہ ربط]آرکائیو شدہ 2015-02-12 بذریعہوے بیک مشین
  4. ذكرهابن رشد فيبداية المجتهد (1/529)
  5. محمود عكام (1415 هـ / 1995 م)۔الموسوعة الإسلامية الميسرة - ج 7۔ دمشق: دار صحارى۔ ص 1361{{حوالہ کتاب}}:تحقق من التاريخ في:|سال= (معاونت)
علوی تحریکیں
ساتویں صدی
عہدِ اموی
آٹھویں صدی
عہدِ اموی
آٹھویں صدی
عہدِ عباسی
نویں صدی
عہدِ عباسی
متنازعہ بغاوتیں
اخذ کردہ از «https://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=سواد_(عراق)&oldid=9135439»
زمرہ جات:
پوشیدہ زمرہ جات:

[8]ページ先頭

©2009-2026 Movatter.jp