جذباتی فراست پر لکھی گئی ایک کتاب۔ کتاب کا سرورق باہمی تعلقات میں جذباتی ہم آہنگی کی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔
جذباتی فراست (انگریزی: Emotional Intelligence) کا تصور دانشورانہ اور جذباتی صلاحیتوں کے فرق توسیع پاکر مستقل مطالعات کا موضوع قرار پایا۔ اس کے ارتقا کا خلاصہ2008ء میں شرما نے یوں دیا تھا کہ یہ تصور مختلف تناظر سے تنوع پاتا ہے جن میں شعوری، غیر شعوری، نفسیاتی عوامل اور ان سب کو ملا کر ایک تناظر (perspective) بنتا ہے۔ ماییر اور سالووے نے1997ء میں جذباتی فراست کو ایک صلاحیت قرار دیا جس سے ایک جذبے کو محسوس اور اظہار کیا جا سکے، جذبے کو خیال کی شکل دی جا سکے اور خود کے اندر کے جذبے کو دوسروں کے ساتھ مربوط کیا جا سکے۔[1]
حالانکہ جذباتی فراست کے ضمن میں کئی نمونے (ماڈلز) پیش کیے گئے ہیں، ان میں تین نمونوں کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ ان کی تفصیلات نیچے درج ہے:[1]
نمونہ
پیش کنندہ
خلاصہ
صلاحیت کا نمونہ (Ability Model)
ماییر اور سالووے (Mayer & Solovey) (1997ء)
جذبات کے بارے میں توجیہ کرنے کی صلاحیت اور حذبات بیان کو کرنا تاکہ تفکر کو وسعت ملے۔ اس میں جذبات کی صحیح شناسائی کی صلاحیتیں، جذبات تک رسائی اور ان کی نشونمائی تاکہ فکرسازی میں مدد ملے، جذبات کی سمجھ اور ان کا علم اور مؤثر انداز میں جذبات پر قابو پانا تاکہ جذباتی اور دانشورانہ افزائش ممکن ہو سکے، شامل ہیں۔
پیٹریڈس اور دوسرے (Petrides et al2007ء)، پیٹریڈس اور فرنہام (Petrides & Furnham -2001ء)
یہ نمونہ شخصیات کے دائرہ کار پر مرکوز ہے اور جذباتی فراست کی تعریف یوں دیتا ہے کہ یہ رویوں کا اظہار اور یہخودشعوری (self-perception) کے تصورات کا مجموعہ ہے جو سرگرمیوں کو پہچاننے جذبات سے لبریز معلومات سے استفادہ کرنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
انفرادی جذباتی فراست (Individual Emotional Intelligence) ان مختلف النوع جذبات کے مجموعے کو کہا گیا ہے جو لوگ کسی ٹیم یا گروہ میں شامل ہوتے ہوئے پیش کرتے ہیں۔ جس طرح افراد ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھتے ہیں، انھیں نظم اور ضابطوں میں ڈھالتے ہیں، اسی طرح گروہوں کو گروہی نگرانی جیسی رخ بندی، ستائش اور عزت کا اظہار کرنا چاہیے جس کے لیے حمایت، اقدامات کی جانچ (validation) اور باہمی ہمدردی کی ضرورت ہے۔ اس فراست کوگروہی جذباتی فراست یاٹیم کی جذباتی فراست کہا جاتا ہے۔[1]
^ابپIrameet Kaur, Charu Shri, K M Mital, "Modelling Enhancement of Team Emotional Intelligence", VISION - The Journal of Business Perspective, Volume 20, Number 3, September 2016, 184-198.
جذباتی طاقت کا تصور پہلی بار 1950 کی دہائی میں ابراہم نے متعارف کرایا۔
اصطلاح "جذباتی ذہانت" کا پہلا معروف استعمال مائیکل بیلڈوک کے 1964 کے مقالے اور بی لیونر کے 1966 کے مقالے میں ہوا۔
1983 میں ہاورڈ گارڈنر نے اپنی کتابفریم آف مائنڈ: دی تھیوری آف ملٹی پل انٹیلیجنس میں یہ نظریہ پیش کیا کہ ذہانت صرف روایتی پیمانوں، جیسے آئی کیو، سے مکمل طور پر نہیں ناپی جا سکتی۔
انھوں نے "کئی اقسام کی ذہانت" کا تصور پیش کیا، جس میں انھوں نے باہمی ذہانت اور ذاتی ذہانت کو بھی شامل کیا — یعنی دوسروں کو سمجھنے اور خود کو پہچاننے کی صلاحیت۔
ا"EQ" یعنی جذباتی ذہانت کی اصطلاح کا پہلا معروف تحریری استعمال 1987 میں ہوا، جب کیتھ بیسلی نے یہ اصطلاح برطانوی مینسا میگزین میں اپنے ایک مضمون میں استعمال کی۔
1989 میں، اسٹینلے گرین اسپین نے جذباتی ذہانت (ای آئی) کو بیان کرنے کے لیے ایک نیا ماڈل پیش کیا۔ اس کے بعد، 1990 میں، پیٹر سیلووی اور جان میئر نے جذباتی ذہانت کی وضاحت کے لیے ایک متبادل ماڈل متعارف کرایا۔
یہ اصطلاح 1995 میں ڈینیل گولمین کی کتابجذباتی ذہانت: یہ آئی کیو سے زیادہ کیوں اہم ہو سکتی ہے کی اشاعت کے بعد وسیع پیمانے پر شہرت حاصل کرنے لگی۔
اس کتاب کے بعد، گولمین نے کئی مزید تحریریں شائع کیں جنھوں نے اس تصور کو مزید تقویت بخشی۔
1998 کے اختتام پر، گولمین کا ہارورڈ بزنس ریویو میں شائع ہونے والا مضمون"ایک مؤثر رہنما کون بنتا ہے؟" جانسن اینڈ جانسن کی کنزیومر کمپنیوں کی اعلیٰ انتظامیہ کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
اس مضمون میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ جذباتی ذہانت اُن مہارتوں اور خصوصیات پر مشتمل ہے جو مؤثر قیادت کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔
بعد ازاں، جانسن اینڈ جانسن نے اس موضوع پر ایک تحقیق کو مالی تعاون فراہم کیا، جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اعلیٰ کارکردگی کے حامل قائدین اور جذباتی قابلیت کے درمیان ایک مضبوط تعلق پایا جاتا ہے، جو اس نظریے کی حمایت کرتا ہے کہ ای آئی قیادت کی کارکردگی میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔[1]
ای آئی کی پیمائش کے لیے بنائے گئے ٹیسٹ اب تک ذہانت کے روایتی پیمانے، یعنی آئی کیو ٹیسٹوں کی جگہ نہیں لے سکے ہیں۔
بعد کی تحقیقات میں، ای آئی کے قیادت اور کاروباری کامیابی میں کردار کے حوالے سے بھی کئی سوالات اور تنقید سامنے آئی ہے۔