ترک جنگ آزادیپہلی جنگ عظیم میںسلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد ترک قوم پرستوں کی ایک سیاسی و عسکری تحریک تھی، جس کے نتیجے میں جمہوریہ ترکیہ کا قیام عمل میں آیا۔
اس تحریک کا آغازانقرہ میں ترک قوم پرستوں کی جانب سےمصطفیٰ کمال کی زیر قیادتمجلس کبیر ملی (Grand National Assembly) کے قیام سے ہوا۔یونان کی جارحانہ کارروائیوں کے خلاف عسکری مہمات اور ترک-ارمنی اور ترک-فرانس جنگ کے بعد ترک انقلابیوں نے اتحادیوں کو مجبور کیا کہ وہمعاہدۂ سیورے کو کالعدم قرار دیں۔جولائی1923ء میںمعاہدۂ لوزان طے پایا جس کے تحت ترکی کی سالمیت تسلیم کی گئی اوراکتوبر1923ء میںاناطولیہ اور مشرقیتراقیا میںجمہوریہ ترکیہ کا قیام عمل میں آیا۔
اس جنگ کے نتیجے میںعثمانی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا اور مصطفیٰ کمال، جسے اتاترک یعنی 'ترکوں کے باپ' کا خطاب دیا گیا، نے اصلاحات کے بعدخلافت کا بھی خاتمہ کر دیا اور ایک جدید سیکولرریاست تشکیل دی۔
 | ویکی ذخائر پرترک جنگ آزادی سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |