بُلند اَجوِد،ترکی کے سابق وزیر اعظم ہیں۔ اپنی سیاسی زندگی میں پانچ بارترکی کےوزیر اعظم بنے۔ انھیں سن دو ہزار دو میں اس وقت اقتدار سے الگ کیا گیا جب انھوں نے صحت کی خرابی کی بنیاد پر مستعفی ہونے سے انکار کر دیا۔ ان کو اس وقت ترکی میں اقتصادی مشکلات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔
اجود نے1974ء میںقبرص میں ترک اقلیت کے تحفظ کے لیے جزیرے پر حملے کا حکم دیا تھا جس کے بعد ہونے والیقبرص کی تقسیم آج بھی قائم ہے۔ اجود نے ترکی کویورپی یونین کی رکنیت اور مغرب کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اجود سوشلسٹ تھے اور انھوں ملک میں مذہبی جماعتوں کی سخت مخالفت کی۔ انھوں نے1974ء میںترکی میں پہلے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والےوزیر اعظم کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا لیکن اپنے سماجی جمہوری نظریات کے باوجود وہ انتہائیقوم پرست رہے۔قبرص پر حملے کے بعد ترکی میں انھیں ہیرو کا درجہ مِل گیا لیکن سال ختم ہونے سے پہلے ان کی مخلوط حکومت ٹوٹ گئی اور وہ اقتدار سے ہٹ گئے۔
1980ء کی دہائی میں فوجی بغاوت کے بعد انھیں قید میں بھی رکھا گیا۔ ان کے خلاف دس سال تک سیاست میں حصہ لینے پر پابندی رہی جس دوران انھوں نے ایک اعتدال پسند بزرگ سیاست داں کی شہرت حاصل کر لی۔ انیس سو نناوے میں ان کے دورِ اقتدار میں ترکی کویورپی یونین کی رکنیت کے امیدوار کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔
2002ء میںترکی میں کرنسی کی قیمت میں کمی کے بعد حالات اتنے خراب ہو گئے کہ معیشت کو بچانے کے لیے آئی ایم ایف کی مدد حاصل کرنا پڑی۔ بلند اجود نے انتخابات میں ناکامی کے بعد سن دو ہزار چار میں فعال سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی۔