بلقان (balkans) جنوب مشرقی یورپ کے خطے کا تاریخی و جغرافیائی نام ہے۔ اس علاقے کا رقبہ 5 لاکھ 50 ہزار مربع کلومیٹر اور آبادی تقریباً 55 ملین ہے۔ اس خطے کو یہ نامکوہ بلقان کے پہاڑی سلسلے پر دیا گیا جوبلغاریہ کے وسط سے مشرقیسربیا تک جاتا ہے۔
قدیم یونان یورپی تہذیب کی جائے پیدائش ہے جس کے آثار آج بھی ماضی کی انسانی عظمت کے گواہ ہیں۔
علاوہ ازیں1990ء کی دہائی کے اوائل تک البانیہ اور بلغاریہ اشتراکی اقتدار کے زیر اثر رہے اور خطے کا بقیہ علاقہ اشتراکی ریاستوں کے اتحاد یوگوسلاویہ کا حصہ تھا جو 1991ء میں خانہ جنگی کے نتیجے میں اب کئی حصوں میں منقسم ہو گیا ہے۔
جنوب مشرقی یورپ کا بیشتر علاقہ پہاڑی ہے جن میں سلسلہ ہائے کوہ جنوب مغرب سے شمال مشرق کی جانب ہیں۔دینارک الپسڈیلماٹین ساحل کے ساتھ ساتھ چلتا جاتا ہے جبکہکوہ پنڈس یونان میں اسی طرح ساحل کے ساتھ پھیلا ہوا ہے۔بحیرہ ایجیئن میں قدیم پہاڑی سلسلے کے ڈوبنے سے کئی جزائر وجود میں آئے جوبحیرہ ایجیئن کہلاتے ہیں۔
یونان کی بیشتر آبادی شہری ہے اور ملک کے 50 فیصد سے زائد باشندےایتھنز اورسالونیکا میں رہتے ہیں۔ بلغاریہ میں بھی آبادی کی اکثریت شہروں میں رہتی ہے جبکہ البانیہ اورمقدونیہ میں تقریباً نصف آبادی دیہی ہے۔ بوسنیا و ہرزیگووینا، سربیا، مونٹی نیگرو اور کروشیا کے افراد خانہ جنگی کے بعد نسلی بنیادوں پر منقسم ہو کر اب الگ الگ رہتے ہیں۔
یونان اور بحیرہ ایجین میں اس کے جزائر سیاحت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ علاوہ ازیں بحیرہ اسود کے ساحلی علاقوں میں بھی سیاحت فروغ پا رہی ہے۔یوگوسلاویہ کی خانہ جنگی کے باعث وہاں کی دیگر صنعتوں کے ساتھ سیاحت کو بھی شدید دھچکا پہنچا لیکن اب یہ دوبارہ اہم صنعت بنتی جا رہی ہے۔ کیمیائی، مہندسی اور جہاز سازی کی صنعتیں اب بھی بلغاریہ کی آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں۔
صنعتی و ذرائع نقل و حمل کے دھوئیں کے باعث ایتھنز اورزغرب شہر کی فضا آلودہ ہو رہی ہے۔ ایتھنز میں آلودگی کا مسئلہ اس قدر شدت اختیار کر گیا ہے کہ وہاں خاص طور پر ایسے دن منائے جاتے ہیں جن دنوں میں گاڑی چلانا منع ہوتا ہے جبکہ اس فضائی آلودگی سے شہر کے آثار قدیمہ کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ بلغاریہ، یونان اور مقدونیہ زلزلے کی متحرک پٹی پر واقع ہیں۔ بڑے زلزلے1953ء میںجزائر آیونین اور1963ء میں مقدونیہ کے دارالحکومپاسکوپے کو شدید متاثر کر چکے ہیں۔ بلغاریہ کاکوزلوڈے جوہری توانائی مرکز زلزلے کی اسی پٹی پر واقع ہے۔
↑"Statistical Office of سربیا. 2011 Census Results"۔ 2013-12-03 کواصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ2013-10-30 Since the Statistical Office of the Republic of سربیا cannot provide data of کوسووہ's population due to the situation in the terrain, the total population data excludes کوسووہ which سربیا claims as part of its own sovereign territory.