
باطنی طہارت (عربی: الطَّهارة المعنوية) سے مراد انسان کے باطن، یعنی دل، نیت اور اخلاق کی پاکیزگی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنے رویّے، سیرت اور نیت میں پاک، سلیم اور برائیوں سے دور ہے۔ باطنی طہارت کا مطلب یہ ہے کہ انسان حسد، بغض، تکبّر، ریا، بدگمانی، نفرت اور دیگر اخلاقی بیماریوں سے اپنے دل کو صاف کرے اور اپنے آپ کو رذائل سے پاک کرکے فضائل سے آراستہ کرے۔
یہ طہارت، ظاہری (حسی) طہارت کے برعکس ہے، جو جسم، لباس اور جگہ کی پاکیزگی سے متعلق ہے۔ باطنی طہارت روح، نیت اور عمل کی اصلاح سے تعلق رکھتی ہے۔قرآن مجید میں فرمایا گیا:﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا﴾[1]"یقیناً وہ کامیاب ہوا جس نے اپنی جان کو پاک کیا۔" (سورۃ الشمس: 9)[2]
یہ تزکیہ نفس کی طرف اشارہ ہے — یعنی نفس کو برائیوں سے پاک کرکے نیکیوں سے سنوارنا۔ اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا گیا:﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ "ہرگز نہیں! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔" (سورۃ المطففین: 14)یہ ظاہر کرتا ہے کہ گناہوں کی کثرت دل کو آلودہ کر دیتی ہے اور انسان کو حق سے دور کر دیتی ہے۔
باطنی طہارت سے مراد تزکیۂ نفس ہے یعنی انسان اپنے نفس کو برائیوں اور رذائل سے پاک کرے اور سیدھے راستے (سلوكِ قويم) کے ذریعے اسے نیکی، فضیلت اور اچھے اخلاق تک پہنچائے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا﴾"یقیناً وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کو پاک کیا۔" (سورۃ الشمس: 9)[3]}یہ اخلاصِ نیت، دل کی اصلاح اور باطن کو حسد، بغض، تکبّر اور ہر اس برائی سے صاف کرنے کی دعوت دیتا ہے جو انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہے۔
قرآن میں فرمایا گیا:﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾"ہرگز نہیں! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔" (سورۃ المطففین: 14)[4]یہ آیت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ گناہ دل کو آلودہ کر دیتے ہیں اور باطنی طہارت اسی آلودگی کو دور کرنے کا نام ہے۔
کبھی کبھار باطنی طہارت کا مفہوم شفا اور پاکیزگی کے معنی میں بھی آتا ہے۔صحیح بخاری میں روایت ہے:ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی مریض کے پاس جاتے تو فرماتے:"لا بأس، طَهورٌ إن شاء الله"(کوئی حرج نہیں، یہ بیماری تمھارے لیے پاکیزگی کا باعث ہے، اگر اللہ چاہے۔)
اسی طرح قرآن مجید میں فرمایا گیا:"إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ""بے شک مشرک ناپاک ہیں۔" (سورۃ التوبہ: 28)[5]یہاں ناپاکی (نجاست) کا مطلب اعتقادی ناپاکی ہے، کیونکہ مشرکین نہ صرف اعتقاداً ناپاک تھے بلکہ وہ ظاہری نجاستوں سے بھی پرہیز نہیں کرتے تھے اور طہارت کے شرعی احکام کی پابندی بھی نہیں کرتے تھے۔[6]،
اسی طرح بخاری کی روایت میں آتا ہے:ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا:"اے اللہ کے رسول! ہم اہلِ کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟"آپ ﷺ نے فرمایا:"نہیں، جب تک کوئی دوسرا برتن نہ ملے، تو انھیں دھو کر ان میں کھالو۔"[7]یہ تعلیم اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ اسلام میں طہارت صرف جسمانی نہیں بلکہ باطنی، فکری اور اخلاقی طہارت بھی ایمان کا لازمی حصہ ہے۔
لفظ "طهارت" کا استعمال "قداست" کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔اسی سے "القدس" (یعنی مسجدِ اقصیٰ) کا نام رکھا گیا اور "روح القدس" سے مراد فرشتہ جبرئیل ہے۔
اللہ تعالیٰ کے فرمان﴿لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ﴾ [الواقعة: 79]کی تفسیر میں مفسرین نے مختلف اقوال بیان کیے ہیں:
1. مراد فرشتے ہیں۔
2. یا فرشتے، انبیا اور رسل۔
3. یا وہ لوگ جو حدث سے پاک ہوں۔یہ اقوال تفسیر طبری وغیرہ میں مذکور ہیں۔تفسیر طبری
اسی طرح قلوب کی طہارت کا ذکر قرآنِ کریم میں یوں آیا ہے:﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ... أُولَئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾ [المائدة: 41]تفسیر طبری میں اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ:تفسير الطبريیہ لوگ اپنے نفاق پر ڈٹے رہے، اس لیے اللہ نے ان کے دلوں کو پاک کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔