ریان بن ولید یاآمون حوتپ چہارم آخِناتونمصر کےبادشاہ کا نام تھا۔[3]
جس بادشاہمصر نے ایک خواب دیکھا اس بادشاہ کا نام ریان بن ولید تھا اورعزیز مصر اس کاوزیر تھا۔ بادشاہ نے اپنے وزراء اور ارکان دولت کو جمع کرکے جو خواب دیکھا تھا اس کو بیان کرنا شروع کیا۔[4]
قرآن مجید میں تصریح ہے جس شخص نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خریدا تھا وہ عزیز تھا اس شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وزیر خزانہ تھا اور اس کا نام قطفیر تھا اور مصر کا بادشاہ ایک دوسرا شخص تھا کیونکہ بادشاہ کا ذکر قرآن مجید میں عزیزمصر کے واقعہ کے بعد موجود ہے‘ مفسرین لکھتے ہیں کہ بادشاہ کا نام ریان تھا جو قومعمالقہ میں سے تھا یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس نےیوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ پر دین الہی قبول کر لیا تھا اور حضرتیوسف (علیہ السلام) سے پہلے ہی بحالت اسلام انتقال کر گیا۔[5]
- ↑عنوان : Chronicle of the queens of Egypt — صفحہ: 124 —ISBN 978-0-500-05145-0
- ↑عنوان : Archaeology and Language — صفحہ: 49 —ISBN 0-7126-6612-5
- ↑تفسیر جلالین جلال الدین سیوطی،یوسف،36
- ↑تفسیر معارف القرآن مولانا ادریس کاندہلوی، یوسف،43
- ↑تفسیر انوارالبیان مولانا عاشق الہٰی، یوسف،102