منتخب مضمونپنجابی لوگ ہمہ اقسام کھیل کھیلتے ہیں۔ ان میںہاکی اورکرکٹ سے لے کرکبڈی، کشتیاں اور کھدو کھوندی (ہاکی سے مشابہ کھیل) شامل ہیں۔ پنجاب میں 100 سے زائد روایتی کھیل موجود ہیں۔ بھارتی پنجاب کے لوگ کھیلوں میں خاص طور پر توجہ دیتے ہیں۔ اس کا انداز اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس چھوٹی سی ریاست میں 845 کھلاڑی ریاست کے محکمہ کھیل کے قائم کردہ مختلف کھیلوں کے تربیتی مراکز کے تحت کھیلوں پر اپنی پکڑ مضبوط کر رہے ہیں۔ یہ اپنے آپ میں ریکارڈ ہے۔ اس کے علاوہاپریل2015ء میں حکومت پنجاب نےاسپورٹس اتھاریٹی آف انڈیا کے ساتھ تال میل کرتے ہوئے ریاستی کھیلوں کی سہولتوں اور تربیتی مراکز میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ماہرین کے مطابق سرکاری سطح پر تربیت یافتہ کھلاڑیوں کی تعداد آنے والے کچھ سالوں میں 1300 سے تجاوز کر جائے گی۔ اس سے ریاست میں کھیل کے پروان کے لیے زندہ تہذیب اور عوام میں کھیلوں کی جانب رغبت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پنجاب کے روایتی کھیلوں کے فروغ کے لیے بھارتی پنجاب کی ریاستی حکومت2014ء سے پنجاب کے روایتی کھیلوں کو فروغ دینے کے اقدامات کر رہی ہے۔ ان کھیلوں میں کشتیاں جیسا ریاستی کھیل بھی شامل ہے۔ | خبروں میں
کیا آپ جانتے ہیں؟ • …کہ قرآن مجید (تصویر میں) کا سب سے پہلا ترجمہحضرت سلمان فارسی نے سورۃ الفاتحہ کا فارسی میں ترجمہ کر کے کیا تھا؟ ویکیپیڈیا ایک تحریک
آج کا لفظ0
کیا آپ بھی لکھنا چاہتے ہیں؟اردو ویکیپیڈیا پر اس وقت239,140 مضامین موجود ہیں، اگر آپ بھی کسی موضوع پر مضمون لکھنا چاہتے ہیں تو پہلے اسصفحۂ تلاش پر جا کر عنوان لکھیے اور تلاش کرنے کی کوشش کریں، ممکن ہے آپ کا مطلوبہ مضمون پہلے سے موجود ہو۔ اگر مضمون موجود نہ ہو تو ذیل کے خانہ میں وہ عنوان درج کریں اور نیا مضمون تحریر کریں۔ | ||
منتخب فہرستسلطنت عثمانیہ کی حکومت جولائی 1299ء میں قائم ہوئی اور یکم نومبر 1922ء تک برقرار رہی۔ ان623 برسوں تک 36 عثمانی سلاطین نے فرماں روائی کی۔ آل عثمان کے آخری سلطانعبدالمجید ثانی تھے جنھیں رسماً خلیفہ مقرر کیا گیا تھا اور 3 مارچ 1924ء کو بالآخر انھیں معزول کر دیا گیا۔ ان کی معزولی پرسلطنت عثمانیہ کا عہد ختم ہو گیا۔ اپنے دور عروج میں سلطنت عثمانیہ نے شمال میںہنگری سے لے کر جنوب میںیمن تک اور مغرب میںالجزائر سے لے کر مشرق میںعراق تک حکومت کی۔ سلطنت عثمانیہ کا سب سے پہلا دار الحکومت 1280ء میںسوغوت اور پھر 1323ء یا 1324ء تکبورصہ رہا۔ 1363ء میں سلطنت کے دار الحکومت کوادرنہ (ایڈریانوپل) کی فتح کے بعدمراد اول نے ادرنہ منتقل کر دیا تھا۔ اور 1453ء میںمحمد ثانی کیفتح قسطنطنیہ کے بعد قسطنطنیہ (موجودہاستنبول) میں منتقل کر دیا گیا۔سلطنت عثمانیہ 13ویں صدی کے آخر میں وجود میں آئی اور اس کا پہلا حکمرانعثمان اول تھے۔ عثمان کا تعلقاوغوز ترکوں کےقائی قبیلہ سے تھا۔ سلطنت عثمانیہمرکزی طاقتوں کی شکست کے نتیجے میں ختم ہو گئی، جن کے ساتھ اس نےپہلی جنگ عظیم کے دوران اتحاد کیا تھا۔ فاتحاتحادیوں کے ذریعہسلطنت کی تقسیم اور اس کے نتیجے میںترکی کی آزادی کی جنگ اور 1922ء میںسلطنت کے خاتمے اور جدیدجمہوریہ ترکی کی پیدائش کا باعث بنی۔ | |||
تاریخآج: جمعہ،13 فروری2026عیسوی بمطابق25 شعبان1447ہجری (م ع و)
| |||
ویکیپیڈیا کا حصہ بنیں!ویکیپیڈیا ایکآزاد اور کثیر لسانی دائرۃ المعارف ہے جس میں ہم سب مل جل کر لکھتے ہیں اور مل جل کر اس کو سنوارتے ہیں۔ ویکیپیڈیا کا آغاز جنوری سنہ 2001ء میں ہوا، جبکہاردو ویکیپیڈیا کا اجرا جنوری سنہ 2004ء میں عمل میں آیا۔ اس وقت اردو ویکیپیڈیا میں239,140مضامین موجود ہیں۔ ہمارے ساتھ شامل ہوں | |||
|
| مدد کی ضرورت ہے؟ ہم سے رابطہ کریں! |